Farman Chaudhary
Apna Kalam pesh karte hue Farman Chaudhary aur stage par tashreef farma hain(Left toRight)Janab Mueen Shadab,Janab Waqar Manvi,Janab Qazi Abrar Kiratpuri,Janab Padam Shri Bekal Utsahi,Janab Qais Rampuri,Janab Fasih Akmal Qadri aur Janab Farooq Argali
Monday, April 11, 2011
Saturday, April 9, 2011
Tabsara on Nau Bahar
نام کتاب : نو بہار(شعری مجموعہ)
مصنف : اطہرؔ سہارنپوری
ضخامت : 155صفحات
قیمت : 150روپے
ملنے کا پتہ : محمد انجم،گلی نمبر45جعفرآباد، دہلی
تبصرہ نگار : فرمان چودھری
اردو کی جملہ اصناف ادب میں شاعری ایک ایسی صنف ہے جس میں مسلسل فکری کاوشیں جاری ہیں۔ خاص طور پر غزل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید جوان ہوتی جارہی ہے۔اردو شاعری ادب کی ایسی صنف ہے جو عوام و خواص میں یکساں مقبول ہے۔اردو شاعری کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اردو ادب کی دیگر اصناف میں جہاں تخلیقی کام تعطل کا شکار ہے،وہیں شاعری میں روز نئے نئے مجموعے شائع ہو کر داد و تحسین حاصل کررہے ہیں۔حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ غزل کے علاوہ شاعری کی دیگر اصناف مثلاًمرثیہ،مثنوی اور قصیدہ میںنہ کے برابر طبع آزمائی ہور ہی ہے۔
بہر حال اطہر سہارنپوری کا پہلا شعری مجموعہ ’’نو بہار‘‘2009میں منظر عام پر آیا۔مجموعہ میں دونظموں اور چند قطعات کے علاوہ سبھی غزلیں ہیں۔اطہر سہارنپوری کی یہ غزلیں قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔اس کی وجہ شاید ان کی سادگی ہے۔ موصوف اپنے اشعار میں اپنی بات کو بات بڑی سادگی سے کہہ جاتے ہیں۔چند اشعار ملاحظہ کیجئے۔
مصنف : اطہرؔ سہارنپوری
ضخامت : 155صفحات
قیمت : 150روپے
ملنے کا پتہ : محمد انجم،گلی نمبر45جعفرآباد، دہلی
تبصرہ نگار : فرمان چودھری
اردو کی جملہ اصناف ادب میں شاعری ایک ایسی صنف ہے جس میں مسلسل فکری کاوشیں جاری ہیں۔ خاص طور پر غزل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید جوان ہوتی جارہی ہے۔اردو شاعری ادب کی ایسی صنف ہے جو عوام و خواص میں یکساں مقبول ہے۔اردو شاعری کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اردو ادب کی دیگر اصناف میں جہاں تخلیقی کام تعطل کا شکار ہے،وہیں شاعری میں روز نئے نئے مجموعے شائع ہو کر داد و تحسین حاصل کررہے ہیں۔حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ غزل کے علاوہ شاعری کی دیگر اصناف مثلاًمرثیہ،مثنوی اور قصیدہ میںنہ کے برابر طبع آزمائی ہور ہی ہے۔
بہر حال اطہر سہارنپوری کا پہلا شعری مجموعہ ’’نو بہار‘‘2009میں منظر عام پر آیا۔مجموعہ میں دونظموں اور چند قطعات کے علاوہ سبھی غزلیں ہیں۔اطہر سہارنپوری کی یہ غزلیں قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔اس کی وجہ شاید ان کی سادگی ہے۔ موصوف اپنے اشعار میں اپنی بات کو بات بڑی سادگی سے کہہ جاتے ہیں۔چند اشعار ملاحظہ کیجئے۔
تصورات کی وادی میں گھومتا ہوں سدا
مری نظر میں نئے دور کا اجالا ہے
بن گیا زر سے تو میدان ادب کا ہیرو
میرے اشعار سے بھاری تری دولت ہی رہی
دیکھ کر جس کو نکلتی تھیں دعائیں دل سے
کس کو معلوم تھا اک دن وہی قاتل ہوگا
مری نظر میں نئے دور کا اجالا ہے
بن گیا زر سے تو میدان ادب کا ہیرو
میرے اشعار سے بھاری تری دولت ہی رہی
دیکھ کر جس کو نکلتی تھیں دعائیں دل سے
کس کو معلوم تھا اک دن وہی قاتل ہوگا
اطہر سہارنپوری محبت کے شاعر ہیں۔اپنے اشعار میں وہ جا بجا انسان دوستی، امن عالم اور مساوات کی تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے اشعار میں فکر کی گہرائی تمام تر رعنائیوں سے ساتھ موجود ہے۔ مندرجہ دو اشعار ان کے اسی شعری رویہ کی بخوبی ترجمانی کرتے ہیں۔
مجرم ہوں اگر جرم کا احساس دلا دو
منہ پھیر کے تم یوں نہ تغافل کی سزا دو
واقف ہے اگر عشق کے انجام سے کوئی
اس کو تو دماغی یہ خلل ہو نہیں سکتا
منہ پھیر کے تم یوں نہ تغافل کی سزا دو
واقف ہے اگر عشق کے انجام سے کوئی
اس کو تو دماغی یہ خلل ہو نہیں سکتا
اطہر سہارنپوری کی شاعری پر اپنے مختصر مضمون میں ایم آر قاسمی فرماتے ہیں کہ اطہر سہارنپوری کا ملازمت پیشہ گھریلو ماحول سے نکل کر دہلی جیسے شہر کو اپنے مستقبل کا مسکن بنانا اور زندگی کے نئے رویوں کو شعری تخیلات و جذ بات میں ڈھالناانتہائی چونکا دینے والا عمل ہے۔اطہر سہارنپوری کا یہ شعری عمل در اصل ایک اندرونی احتجاج ہے ان فرسودہ اور نام نہاد اکائیوں کے خلاف جن پر وقت، سماج، دوستی، تعلق،خلوص اور پیارکی دریدہ بدن تختیاں لگی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری آتش نوائی سے احتراز کے باوجود محبتوں کی روایتی تہذیب سے عبارت ہے۔
اطہر سہارنپوری زندگی سے جو کچھ حاصل کرتے ہیں،اس مشاہدہ اور تجربہ کو اپنے شعروں کے ذریعہ بڑی خوبصورتی سے واپس کردیتے ہیں۔مثال کے طور پر چند اشعارحاضر ہیں ۔
اطہر سہارنپوری زندگی سے جو کچھ حاصل کرتے ہیں،اس مشاہدہ اور تجربہ کو اپنے شعروں کے ذریعہ بڑی خوبصورتی سے واپس کردیتے ہیں۔مثال کے طور پر چند اشعارحاضر ہیں ۔
اہل جہاں نے مجھ کو تماشہ سمجھ لیا
لے آئی یہ کہاں سے کہاں بے خودی مجھے
افضل نہیں ہے کوئی بھی ہم سے جہان میں
کچھ لوگ عمر بھر ہی رہے اس گمان میں
بویا تھا جو تم نے وہی تم کاٹ رہے ہو
کڑوے پہ تو میٹھا کوئی پھل ہو نہیں سکتا
گھائل اسی کو کر دیا جس پر نظر پڑی
ابروئے چشم ہی تری تیرو کمان ہے
لے آئی یہ کہاں سے کہاں بے خودی مجھے
افضل نہیں ہے کوئی بھی ہم سے جہان میں
کچھ لوگ عمر بھر ہی رہے اس گمان میں
بویا تھا جو تم نے وہی تم کاٹ رہے ہو
کڑوے پہ تو میٹھا کوئی پھل ہو نہیں سکتا
گھائل اسی کو کر دیا جس پر نظر پڑی
ابروئے چشم ہی تری تیرو کمان ہے
اطہر سہارنپوری کا شعری مجموعہ ’نو بہار‘ اپنے سر ورق کے لحاظ سے بھی بیحد خوبصورت ہے۔امید ہے کہ ادبی حلقوں میںمجموعہ کو پذیرائی ملے گی۔
Thursday, April 7, 2011
Interview with Tahir Bizenjo Sb.
Tabsara on (Iqbal aur allahabad)
مصنف : علی احمد فاطمی
ضخامت : 240صفحات
قیمت : 250روپے
ملنے کا پتہ : بادارۂ نیا سفر،مرزا غالب روڈ، الہ آباد
تبصرہ نگار : فرمان چودھری
علامہ اقبال بیسویں صدی کے ایسے عظیم شاعرہیں جنہوں نے اپنی شاعری میںفکر اور فلسفہ پیش کیا۔ ان کے فن اور فلسفے پر اب تک ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اسی سلسلے کے تحت عصر حاضر کے ممتاز ترقی پسند نقاد پروفیسر علی احمد فاطمی کی تازہ تصنیف’’اقبال اور الہ آباد‘‘ سلسلۂ اقبالیات میںنیا اورخوشگواراضافہ ہے۔ موصوف نے اس تصنیف میںاپنے 11مضامین اور اقبالیات پر چند نئی کتابوں پرکئے گئے اپنے تبصروں کو یکجا کیا ہے۔’اقبال اور الہ آباد ‘ اس کتاب کا پہلا مضمون ہے اور اسی کی مناسبت سے انہوں نے اپنی کتاب کا عنوان بھی’ اقبال اور الہ آباد‘ رکھا ہے۔ اس موضوع پر قلم اٹھانے کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے صاحب مضمون نے لکھا ہے کہ جس طرح مرزا غالب اور میر انیس کے دورۂ الہ آباد کی تفصیلات نہیں ملتیں ، اسی طرح اقبال کے دورۂ الہ آباد کی تفصیلات پربھی دھندپڑنے کاخطرہ تھا۔ اپنے دوسرے مضمون’ علامہ اقبال کا خطبۂ الہ آباد:ایک تجزیہ ‘میں موصوف نے علامہ کے اس خطبہ کا جائزہ لیاہے جو علامہ نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے ایک جلسہ میں 1930میںدیا تھا۔ اسی خطبہ کو بنیاد بناکر بعض لوگ علامہ کو نظریۂ پاکستان کا بانی بھی کہتے ہیں، لیکن فاطمی صاحب نے مذکورہ خطبہ کا عالمانہ تجزیہ کرنے کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ علامہ تقسیم ہند کے حامی نہیں تھے اور انہوں نے کسی الگ ملک یا ریاست کا مطالبہ بھی نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے ہندوستان کے اندر مسلم ریاست کی خواہش کی تھی۔وہ لکھتے ہیں’’علامہ اقبال نے یہ خواہش کسی علیحدگی پسندی کی وجہ سے نہیں بلکہ مسلمانوں کے تشخص کے ساتھ ساتھ آئے دن ہونے والے ہندو مسلم کے درمیان کے واقعات کے تحفظ کے تحت بھی سوچی تھی۔وہ آئے دن کے ٹکراؤ اور بڑھتی ہوئی نفرت کا کوئی مستقل حل چاہتے تھے۔وہ مسلمان اور ہندوستان دونوں کے لیے فکر مند تھے۔ …..اقبال کو صرف جز کی نہیں کل کی فکر تھی۔صرف مسلمانوں کی نہیں سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں کی فکر تھی جسے کچھ لوگ ایک خاص رنگ، مذہب اور قانون میں ڈھال دینا چاہتے تھے‘‘۔
زیر نظر کتاب کے دوسرے مضامین’ اقبال کی عصری معنویت‘ ’ اقبال کی آفاقیت پر چند باتیں‘ اور’ اقبال کی مقامیت پر چند باتیں‘ایسے مضامین ہیں جن سے قاری کے ذہن کی گرہ کھلتی ہیں۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اقبال کی جتنی اہمیت بیسویں صدی میں تھی، ان کی عصری معنویت بھی اس سے کسی قدر کم نہیں ہے۔ ان کی شاعری نے سوئی ہوئی قوم کو جگانے کا کام کیا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان کو شاعر اسلام بھی کہا جاتا ہے ، لیکن مصنف کا اس بات پر زور دینا حق بجانب ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری کو محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ وہ ایک آفاقی شاعر ہیں اور ان کا ایک ایک مصرعہ درد انسانیت سے پر ہے۔مصنف کے دیگر مضامین ’آل احمد سرور کی اقبال شناسی‘’ محمد علی صدیقی: بحیثیت اقبال شناس‘’ اقبال کی نظم:والدہ مرحومہ کی یاد میں‘’ لینن خدا کے حضور میں:تجزیہ‘’ اقبال اور سردار کے فکری و تخلیقی رشتے‘اور’ علامہ اقبال پر فراق کا ایک مضمون‘ بھی قابل قدر ہیں۔ مصنف نے اپنے مضامین کا سلسلہ علی سردار جعفری کے ان جملوں پر ختم کیاہے’’اقبال مسلم بیداری کے شاعر تھے، اس میں ایشیائی بیداری بھی شامل ہے۔ اقبال ہندوستان کی بیداری کے شاعر تھے، اس میں پوری تحریک آزادی شامل ہے۔ اقبال عالم انسانیت کی بیداری کے شاعر تھے، اس میں اشتراکیت کی فتح ، کارل مارکس اور لینن کے افکار کی عظمت شامل ہے۔ اقبال کی دوسری یاتیسری حیثیت ان کی پہلی حیثیت کی تردید نہیں کرتی بلکہ میرے نزدیک اس کی توثیق اور توسیع کرتی ہے کیوں کہ ہندوستان اور ایشیا کی مسلم بیداری ، عالم انسانیت کی بیداری کا ایک حصہ ہے۔ اقبال صحیح معنوں میں عالمی شاعر تھے‘‘۔
آخر میں مصنف نے’اقبال پرچند نئی کتابیں‘ کے عنوان سے اقبال:شاعر رنگیں نوا(پروفیسر عبدالحق)چوں مرگ آید(ڈاکٹر تقی عابدی)اقبال:عرفان کی آواز(پروفیسر بشیر احمد نحوی)اقبال اور سوشلزم(ڈاکٹر نذیر احمد شیخ)جہان اقبال(پروفیسر توقیر احمد خاں)اورمحافظ ملت:علامہ اقبال(ابراہیم اشک)جیسی کتابوںکا بخوبی جائزہ لیا ہے۔ چند یادگار تصاویر بھی کتاب کی زینت ہیں۔ کتاب کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ موصوف نے خود کے یا کتاب کے بارے میں کوئی مضمون یاجملہ شائع نہیں کیا ہے۔
Tuesday, March 22, 2011
Monday, March 21, 2011
Tabsara on Khwab-o-Khayal
نام کتاب : خواب و خیال(شعری مجموعہ) مصنف : بی ایس جین جوہرؔ ضخامت : 456صفحات قیمت : 250روپے ملنے کا پتہ : بی7-، انڈسٹریل ایسٹیٹ، پرتاپور، میرٹھ تبصرہ نگار : فرمان چودھری اردو زبان کی آبیاری میں مسلم ادباء وشعرا کے ساتھ ساتھ غیر مسلم ادباء و شعرانے بھی خون جگر صرف کیا ہے۔ مثال کے طور پر آنند نرائن ملاؔ، رگھوپتی سہائے فراقؔ گورکھپوری،برج نارائن چکبستؔ،پنڈت دیا شنکر نسیم،ؔکنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ ، گلزارؔ دہلوی اور چندربھان خیالؔ جیسے کتنے ہی نام ہیںجنہوں نے بلا تفریق مذہب و ملت اردو زبان کے سیکولر کردار کوفرقہ پرستوں کے سامنے نظیر بنا کرپیش کیا۔ایسے ہی سیکولرازم کے علم بردار ایک شاعربی ایس جین جوہرؔبھی ہیں، جواردو شاعری کی زلف سنوارنے میں مصروف ہیں۔ زیر نظر کتاب موصوف کا تیسرا شعری مجموعہ ’’خواب وخیال‘‘ہے۔اس سے قبل ان کے دو شعری مجموعے ’’ترانۂ بیداری‘‘ اور ’’سازو مضراب‘‘ دادو تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں موصوف نے اپنی غزلوں ، نظموں، قطعات اوردوہوں کو جمع کیا ہے۔ موصوف کے مجموعہ کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے پورے کے پورے مجموعے کو اردوکے ساتھ ساتھ ہندی زبان میں بھی پیش کردیاہے۔جس سے اردو کے ساتھ ساتھ ہندی کے قاری بھی اس شعری مجموعے سے مستفیض ہو سکیں گے اور اردو کی حلاوت و شیرینی سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔جوہرؔ صاحب نے اپنے ہندی کے قارئین کے لیے آسانی اس طرح پیدا کی ہے کہ انہوں نے اردو کے مشکل الفاظ کا ہندی میں ترجمہ کرکے نیچے درج کردیا ہے، جس سے ان کی شاعری کو سمجھنا اور اس سے لطف اندوز ہوناہندی داں طبقہ کے لیے مزید آسان ہو گیا ہے۔جوہرؔ صاحب کا ماننا ہے کہ ہندی اور اردو دونوں ایک ہی زبان ہیں۔ دونوں میں صرف رسم الخط کا فرق ہے۔اس لیے شمالی ہند میں جو ہندی اور اردو کا تنازعہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے ، یہ اس کا صحیح جواب ہے۔ بی ایس جین جوہر کی غزلوں، نظموں، قطعات اور دوہوں میں سلاست، روانی اور شگفتگی ہے۔ان کی سادہ و سلیس زبان سیدھے قاری کے دل میں اتر جاتی ہے۔ موصوف نے بڑی خوش اسلوبی سے ہندی الفاظ کابھی استعمال کیاہے۔ان کی شاعری سے انسان دوستی، بھائی چارہ اور رواداری کا پیغام ملتا ہے۔ بی ایس جین جوہرؔ کے فن پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد حسین خاں کہتے ہیںکہ ’’ان کا کلام کلام ِ ناموزوں ، دو لخت اشعار، عیب قافیہ، سقم ِ اجتماع ِ ردیفین ، شتر گربہ، شکست ناروا، ایطائے جلی و خفی، عجز کلام اور غلط تراکیب و محاورات کی خامیوں سے پاک و صاف ہے‘‘۔مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ کیجیے ۔ انقلاب آتے ہیں دنیا میں سونامی بن کر دل میں طوفان اٹھا کرتے ہیںساگر کی طرح گھر میں رونق آگئی سالے ہوئے مہمان چولھے پر چندن چڑھا، بننے لگے پکوان مری میت میں تو آنا نہ آنا جیسی مرضی ہو ترے خوابوں، خیالوں میں توآنا چاہتا ہوں میں جوہر صاحب کی غزلوں میں نظموں کا مزا آتا ہے ، کیوں کہ ان کی غزلوں کے اشعار باہم مربوط ہیں۔ اسی لیے ان کی غزلوں کو عنوان بھی دیا جا سکتا ہے۔ ایک غزل کے چند اشعار سے اسے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ میں تمہارے بغیر جیتا ہوں زہر غم روز روز پیتا ہوں پہلے خوابوں کے جال بنتا تھا اب پھٹی اوڑھنی کو سیتا ہوں تم کہا کرتی تھیں کہ رام ہو تم اور میں بھی تمہاری سیتا ہوں امید کی جاسکتی ہے کہ غزلوں، نظموں ،قطعات اور دوہوں سے مزین بی ایس جین جوہر کا یہ شعری مجموعہ عوام و خواص میںیکساں مقبول ہوگا۔ |
Monday, March 14, 2011
Saturday, March 12, 2011
Tabsara on (chaand mera hei)
مصنف : غزالہ قمر اعجاز
ضخامت : 182صفحات
قیمت : 200روپے
ملنے کا پتہ : بی132-ایم آئی جی فلیٹس،راجوری گارڈن،نئی دہلی
تبصرہ نگار : فرمان چودھری
زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ادبی سفر میں بھی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں اور اپنی موجودگی کا احساس کرا رہی ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی نمائندگی جتنی ہونی چاہئے اتنی نہیں ہے۔ زیر نظرکتاب ایک خاتون افسانہ نگار غزالہ قمر اعجاز کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ’’چاند میرا ہے‘‘نامی اس مجموعے میں غزالہ قمر اعجاز نے اپنے 19افسانوں کا انتخاب کیا ہے۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میںجب کہ انسانی زندگی نفسیاتی پیچیدگی اور تہذیبی بحران کا شکار ہے اور تمام انسانی رشتے ناتے بوجھ بن گئے ہیں، قمر غزالہ اعجاز نے اپنے افسانوں میں اس درد کو نہایت چابکدستی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ان کے مجموعے کا پہلا افسانہ ’’مقبرہ‘‘اس کی بہترین مثال ہے۔ اس افسانے میں قمر غزالہ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح گھر کے بزرگ اپنے ہی گھر میں خود کو تنہا اور کمزور محسوس کرتے ہیں۔مثال کے طور پر افسانہ کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجئے’’اس وقت بچوں کو اسکول بھیجنے کے بعد سمعیہ دوبارہ سو رہی ہوں گی اور ان کے فرماں بردار شوہر یعنی ہمارے برخوردار اپنی چائے بنانے کے بعد اب اخبار کے مطالعے میں مصروف ہوں گے…..اور میرے وقت سے پہلے پہنچنے پر وہ اخبار مجھے دے کر لان میں لگے پودوں کو پانی دینا شروع کر دیں گے۔گھڑی اس وقت جیسے رک سی جاتی ہے۔سمعیہ ساڑھے آٹھ بجے اٹھیں گی۔ناشتہ میز پر رکھ کر مجھے اس انداز سے بلائیں گی جیسے کہہ رہی ہوں ’نٹھلو کھانے کے سوا تمہارا کام ہی کیاہے‘‘۔
قمر غزالہ نے اپنے افسانے بہت ہی سیدھے سادے انداز میں پیش کئے ہیں لیکن انہوں نے افسانے کے فن کو کہیں نظر انداز نہیں کیا ہے۔اس لیے ان کا قاری کہیں اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے۔اس مجموعے کے موضوعات گرچہ روایتی ہیں،اور ہوں بھی کیوں نہیں۔ ہمارے بیشتر ادیب آج بھی روایت کے خول میں ہی لپٹے ہوئے ہیں۔اس خول سے باہر وہ تب آتے ہیں جب یوروپ کا کوئی ادیب ان سے باہر نکلنے کے لیے کہتا ہے،یا یوں کہیں کہ جگاتا ہے۔بہر حال موصوفہ نے اچھی کوشش کی ہے اور روایتی موضوعات کو انفرادیت کا جامہ پہنایا ہے۔
ان کے بقول افسانہ ایک مکمل تجربہ ہے، جو کبھی ایک لمحے پر تو کبھی پوری زندگی پر محیط ہوتا ہے۔اپنے اسی تجربے کو انہوں نے اپنے افسانہ ’’زلزلہ آگیا ہے‘‘ میں بھرپور طریقے سے پیش کیا ہے اور سماج کے فرقہ پرست چہرے پر زبردست چوٹ کی ہے۔’’بند کمرہ‘‘ میں غزالہ قمر نے آفس کلچر اور بے راہ روی کا نقشہ کھینچا ہے۔’’کھوکھلے رشتے‘‘ میں انہوں نے بڑے شہر میں رہ رہے اس جوڑے کی زندگی سے قارئین کو روبرو کرایا ہے جو اپنی مصروفیت میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ اسے ایک دوسرے کا خیال ہی نہیں رہتا ، لیکن آخر میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے اور وہ اپنی زندگی کو تباہ ہونے سے بچا لیتے ہیں۔ یہ افسانہ ہمیں سوچنے پر مجبور کردیتا ہے کہ کیا انسان صرف کام کرنے کی ہی مشین بن گیا ہے ؟کیا گلوبلائزیشن نے اس کے اندر کے جذبات و احساسات کو بالکل ہی ختم کردیا ہے؟
غزالہ قمر کے افسانے بھی اخلاقیات کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔ اپنیدیگر افسانوں ایک اور سریتا، درار، اپنا انصاف، جیک پاٹ، گھروندا، آئینہ چپ ہے، اسپرنگ، چاند میرا ہے، یکا تنہا، آخری تلاش، دھند، تم کون، ہار، کسک اورسانپ میں بھی انہوں نے اپنے فن کا بخوبی استعمال کیا ہے۔اپنے اس مجموعے میں انہوں نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا ہے،جن سے انسانی زندگی شب و روزدوچار ہوتی ہے۔غزالہ قمر نے اپنے افسانوں میں جس طرح انگریزی الفاظ کا جگہ جگہ استعمال کیا ہے وہ قابل تعریف ہے ۔ انگریزی الفاظ اردو کے ساتھ پوری طرح گھل مل گئے ہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ بہترین اور عمدہ سر ورق کے ساتھ غزالہ قمر اعجاز کا یہ افسانویمجموعہ اردو داں حلقے کو ضرور پسند آئے گا۔
Friday, March 4, 2011
Tabsara on subah ki dehleez
نام کتاب : صبح کی دہلیز(غزلیہ مجموعہ)
مصنف : ڈاکٹر ذکی طارقؔ
ضخامت : 116صفحات
قیمت : 100روپے
ملنے کا پتہ : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،لال کنواں،دہلی6-
تبصرہ نگار : فرمان چودھری
اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف سخن یعنی غزل نے اگر اپنا لوہا عہد میر اور عہدغالب میں منوایا ،تو اس کی مقبولیت میں آج بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے ،بلکہ مزید اضافہ ہی ہواہے۔غزل نے جہاں حسن و عشق کی کیفیات بیان کی ہیں، وہیں سماجی مسائل سے بھی بحث کی ہے۔آج جبکہ شاعری کی دیگر اصناف میں تخلیقی کام تعطل کا شکار ہے،وہیںغزل اپنے عروج پر ہے۔بقول پروفیسر شہپر رسول ’’کلاسیکی تہذیبی دروبست کے زمانے سے مابعد جدیدیت کی نام نہاد اصطلاح کے دور تک غزل اپنی داخلی ایمائیت اور فنی و جمالیاتی سحر کاری کے ساتھ ہر اچھے شاعر کی تخلیقی پہنائیوں میں نت نئی سج دھج اور امکانات کے ساتھ جلوہ فرما رہی ہے‘‘۔آج تمام شعرا غزل میں طبع آزمائی کررہے ہیں اور عصری مسائل کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔
عصر حاضر کے انہیں شعرا میں سے ایک نام ڈاکٹر ذکی طارق ؔ کا بھی ہے،جو اتر پردیش ریاست کے محکمۂ تعلیم سے وابستہ ہیںاور اپنی تمام تر سماجی خدمات سے وقت نکال کر غزل کی زلف کو سنوار رہے ہیں۔ڈاکٹر ذکی طارقؔ کا زیر نظر مجموعہ ’’صبح کی دہلیز‘‘خالص غزلیہ مجموعہ ہے۔ڈاکٹر ذکی طارقؔ کی غزلیںاپنے قاری کو چونکاتی ہیں اور غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ان کی غزلوں میں فکر کی تازگی، سلاست اور الفاظ میں شگفتگی کے ساتھ ساتھ تہہ داری اور گہرائی بھی ہے جو انہیں عام غزل گو شعرا سے ممتاز کرتی ہے۔مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ کیجیے ۔
امید کی جاتی ہے کہ ڈاکٹر ذکی طارقؔ مستقبل میں بھی اسی طرح سرگرمی کے ساتھ غزل کی نوک پلک درست کرتے ہوئے اپنی تخلیقات میں اپنے عہد سے آنکھ ملانے اور اسے آئینہ دکھانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔
مصنف : ڈاکٹر ذکی طارقؔ
ضخامت : 116صفحات
قیمت : 100روپے
ملنے کا پتہ : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،لال کنواں،دہلی6-
تبصرہ نگار : فرمان چودھری
اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف سخن یعنی غزل نے اگر اپنا لوہا عہد میر اور عہدغالب میں منوایا ،تو اس کی مقبولیت میں آج بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے ،بلکہ مزید اضافہ ہی ہواہے۔غزل نے جہاں حسن و عشق کی کیفیات بیان کی ہیں، وہیں سماجی مسائل سے بھی بحث کی ہے۔آج جبکہ شاعری کی دیگر اصناف میں تخلیقی کام تعطل کا شکار ہے،وہیںغزل اپنے عروج پر ہے۔بقول پروفیسر شہپر رسول ’’کلاسیکی تہذیبی دروبست کے زمانے سے مابعد جدیدیت کی نام نہاد اصطلاح کے دور تک غزل اپنی داخلی ایمائیت اور فنی و جمالیاتی سحر کاری کے ساتھ ہر اچھے شاعر کی تخلیقی پہنائیوں میں نت نئی سج دھج اور امکانات کے ساتھ جلوہ فرما رہی ہے‘‘۔آج تمام شعرا غزل میں طبع آزمائی کررہے ہیں اور عصری مسائل کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔
عصر حاضر کے انہیں شعرا میں سے ایک نام ڈاکٹر ذکی طارق ؔ کا بھی ہے،جو اتر پردیش ریاست کے محکمۂ تعلیم سے وابستہ ہیںاور اپنی تمام تر سماجی خدمات سے وقت نکال کر غزل کی زلف کو سنوار رہے ہیں۔ڈاکٹر ذکی طارقؔ کا زیر نظر مجموعہ ’’صبح کی دہلیز‘‘خالص غزلیہ مجموعہ ہے۔ڈاکٹر ذکی طارقؔ کی غزلیںاپنے قاری کو چونکاتی ہیں اور غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ان کی غزلوں میں فکر کی تازگی، سلاست اور الفاظ میں شگفتگی کے ساتھ ساتھ تہہ داری اور گہرائی بھی ہے جو انہیں عام غزل گو شعرا سے ممتاز کرتی ہے۔مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ کیجیے ۔
ایک گھر بے درودیوار کا کرکے تعمیر
میں نے آنگن کی کھلی آب و ہوا رکھّی ہے
یگوں یگوں سے مرے ساتھ اجنبی ہیں بہت
کبھی تو مجھ کو فقط میرا ہم سفر کر دے
میں بھی سنتا ہوں اک اندر کی صدا
کون یہ میرے سوا ہے مجھ میں
ہندوستان میں قومی یکجہتی کے فروغ کو اپنا نصب العین بتانے والے ڈاکٹر ذکی طارقؔ کے نزدیک شاعر کا مقصد خواب دیکھنا اور ان خوابوں کی تعبیر تلاش کرنا ہے ۔ڈاکٹر ذکی طارقؔ کے زیر نظر مجموعہ سے قبل دو شعری مجموعے’ احساس کی دھوپ‘ 1983میں اور’ پلکوں پہ خواب‘2003میں جبکہ ایک نثری تصنیف’ قومی ایکتا کے نام ‘ 1983میں منظر عام پر آچکی ہیں۔ڈاکٹر ذکی طارقؔ ادبی، سماجی اور تعلیمی انجمنوں میں ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں۔اسی سرگرمی سے وقت نکال کر وہ اپنے احساسات وجذبات کو شعری قالب میں ڈھال دیتے ہیں۔میں نے آنگن کی کھلی آب و ہوا رکھّی ہے
یگوں یگوں سے مرے ساتھ اجنبی ہیں بہت
کبھی تو مجھ کو فقط میرا ہم سفر کر دے
میں بھی سنتا ہوں اک اندر کی صدا
کون یہ میرے سوا ہے مجھ میں
ان کے وعدوں کی ہے ،حقیقت کیا
جان کر دل فریب کھاتا ہے
بڑا طویل ہے شب کا مہیب سناّٹا
ہمارے پاس تو قصے کہانیاں بھی نہیں
جل رہا تھا چراغ کی لو پر
آندھیوں میں رواں دواں میں تھا
حالانکہ ڈاکٹر ذکی طارقؔ کسی خاص نظریہ سے تعلق نہیں رکھتے ہیں ،پھر بھی ان کی شاعری ترقی پسند نظریات کے زیادہ قریب نظر آتی ہے۔بقول ڈاکٹر علی احمد فاطمی’’ذکی طارق کی شاعری کا بنیادی لب و لہجہ ،فکر اور اسلوب دونوں ہی اعتبار سے ترقی پسند اقدار اور افکار سے تعلق رکھتا ہے۔لیکن یہ ترقی پسندی روایتی ہر گز نہیں ہے بلکہ آج کی زندگی سے براہ راست وابستگی رکھتی ہے۔اپنے انداز میں اپنے لب و لہجہ میں آج کی حساس اور پر وقار شاعری جو بھی ایمان و ایقان ،مزاج و مذاق ،کردار و رفتار کے تقاضے رکھتی ہے۔ذکی طارق کی شاعری ان مطالبات کو پورا کرتی دکھائی دیتی ہے‘‘۔جان کر دل فریب کھاتا ہے
بڑا طویل ہے شب کا مہیب سناّٹا
ہمارے پاس تو قصے کہانیاں بھی نہیں
جل رہا تھا چراغ کی لو پر
آندھیوں میں رواں دواں میں تھا
امید کی جاتی ہے کہ ڈاکٹر ذکی طارقؔ مستقبل میں بھی اسی طرح سرگرمی کے ساتھ غزل کی نوک پلک درست کرتے ہوئے اپنی تخلیقات میں اپنے عہد سے آنکھ ملانے اور اسے آئینہ دکھانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔
Monday, February 28, 2011
Tabsara on (Seerat Rasool e Akram,saws)
مصنف : محمدامام الدین کشی نگری
ضخامت : 316صفحات
ملنے کا پتہ :رضوی کتاب گھر،اردو مارکیٹ،مٹیا محل،دہلی6-
تبصرہ نگار : فرمان چودھری
یوں تو بے شمار لوگوں نے آپؐ کی سیرت پاک پر کتابیں لکھیں اور سب کا اپنا ایک منفرد انداز رہا ۔ہاں یہ بات بھی حقیقت ہے کہ تمام لکھنے والوں کو قارئین بھی ملے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ سیرت پر کتاب لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے، اس لیے جب بھی کوئی اس عنوان کے تحت لکھنے کی کوشش کرتا ہے تو یقینی طور پر وہ اپنے میدان کا ماہر ہوتا ہے۔یعنی لکھنے والا معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے، چونکہ کتاب میں پیغمبر اسلام کی حیات و خدمات کو قلم بند کیا جاتا ہے، لہذا سیرت نگار کو قارئین کا ایک حلقہ ملنا یقینی ہو جاتا ہے۔جناب محمد امام الدین کشی نگری بھی انہی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد کی جماعت کے ایک فرد ہیں۔ انھوں نے سیرت نگاری پر ’’سیرت رسول اکرمؐ‘‘ نامی کتاب تصنیف دے کرکے اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ یہ کتاب منفرد نوعیت کی حامل ہے۔موصوف کا انداز بیان تو دلکش ہے ہی ساتھ ہی عمیق تحقیق کی جھلکیاں ان کی تحقیقی کاوشوں کی غمازی کرتی ہیں۔ان کی یہ کاوش سیرت نگاری کے باب میں ایک قابل قدر اضافہ ہے اس میںجناب محمد امام الدین نے ظہور اسلام سے پہلے عرب کی صورت حال سے لیکر آپ ؐکے وصال تک کے حالات کامیابی کے ساتھ قلمبند کئے ہیں۔اس کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اسے ایک ہندوستانی نے مدینہ منورہ میں تصنیف کیا ہے۔مصنف نے اس کتاب کو تین مرکزی عنوانات ’ رسول اکرمؐ کی مکی زندگی،مدنی زندگی اور شخصی زندگی کے تحت قلم بند کیا ہے۔موصوف نے نہ صرف ہر واقعات کو الگ الگ عنوان کے تحت سجایا ہے بلکہ واقعہ کے مقام و وقت،ماہ و سال،سن ہجری اور عیسوی کا بیان بھی کردیا ہے۔ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف نے باضابطہ طور پر عا لمیت یا مولویت کی ڈگری نہیں لی ہے(وہ ایم اے بی ایڈ ہیں اور پیشے کے لحاظ سے کمپیوٹر آپریٹر ہیں) بلکہ عشق رسول سے سرشار ہوکر یہ کارہائے نمایاں انجام دیا ہے۔کتاب کو مصنف نے بہت سلیقے کے ساتھ مرتب کیا ہے اور ان خوش نصیبوں میں اپنا نام درج کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جنہوں نے نبی کریم ؐ کی تاریخی زندگی اور انقلابی خدمات پر قلم اٹھایا اور سیرت رسولؐ پر کوئی کتاب تالیف کی۔
کتاب کے ابتدا اور اخیر میں حمد و نعت کو بھی مصنف نے شامل کیاہے۔
مجموعی طور پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ مصنف نے عاشقان رسولؐ میں اپنا نام درج کراکر سیرت کے باب میں ایک بیش قیمت اضافہ کیا ہے۔ جسے یقیناً قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ آج سے سوا چودہ سو سال قبل سرزمین عرب میں آنکھیں کھولنے والے آخری نبی حضرت محمدؐ کی سیرت پاک کو صفحۂ قرطاس پر اتارنے کا کام آپؐ کے عہد مبارک میں ہی شروع ہو چکا تھا۔جو آہستہ آہستہ ایک مستقل فن کی شکل اختیار کرگیا۔صحابۂ کرام ؓجس طرح احادیث رسولؐ کو جمع کر رہے تھے،اسی طرح حیات رسولؐ کی ایک ایک ادا،ایک ایک قول و فعل اور طریقۂ زندگی کے ایک ایک عمل کو بھی انتہائی عقیدت کے ساتھ جمع کر رہے تھے۔سیرت نگاری کا یہ کام اس زمانے سے تا حال جاری و ساری ہے۔اس کام میں کسی بھی زمانے میں کوئی جمود نہیں آیا۔سیرت نگاری کا یہ قافلہ یوں ہی رواں دواں ہے اور اس وقت تک جاری و ساری رہے گا جب تک یہ دنیا قائم ہے ۔ یہ ایسا بحر بیکراں ہے جسے عبور کرنے میں بڑے بڑوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ایک مذہبی مفکر کے بقول ’’ آسمان کے چاندتاروں کوتوڑ کر اپنے دامن میں رکھنا جس طرح دشوار مسئلہ ہے اسی طرح سیرت رسول ؐکے ہر گوشے کو سمیٹ لینا بھی نہایت دشوار ہے‘‘۔لیکن اس کے باوجود آج ہر زبان میں سیرت کی چھوٹی بڑی کتابوں کا اتنا بڑا ذخیرہ دنیا میںموجود ہے کہ کسی دوسرے عظیم ترین بادشاہ یا حکمراں کی حیات و خدمات پر اس کا عشر عشیر بھی موجود نہیں۔
Tabsara on Dehleez (fictions)
مصنف : سہیل جامعی
قیمت : 100روپے
ملنے کا پتہ : اردو بازار ،دربھنگہ
تبصرہ نگار: فرمان چودھری
افسانہ اردو ادب کی ایک ایسی صنف ہے جو زندگی کے بے حد قریب مانی جاتی ہے۔شاید اسی لیے اردو میں افسانہ کی ابتدا سے لے کر آج تک اس صنف کی مقبولیت میں کبھی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔گرچہ افسانہ مغربی ادب سے اردو میں آیا،پھر بھی اردو میں اگر غزل کو مقبولیت حاصل ہے توافسانوں کو بھی ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہےاورافسانوں کی تخلیق کا سلسلہ منشی پریم چند سے لے کرتا حال جاری ہے۔اسی سلسلے کو آگے بڑھایا ہے سہیل جامعی کے افسانوی مجموعے ’دہلیز‘ نے۔
سہیل جامعی کے افسانوی مجموعے ’دہلیز‘ کے یوں تو سبھی افسانے بہت اچھے ہیں لیکن افسانہ ’دہلیز‘ اپنے آپ میں بے مثال ہے۔اس افسانے میں سہیل جامعی نے انسانی نفسانی ضروریات اور اخلاقی قدروں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔سہیل جامعی اپنے اس افسانہ کے ذریعہ سماج کو ایک مثبت پیغام دینے میں کامیاب رہے ہیں۔مثال کے طور پر افسانہ کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔’’پھر اوشا کو لگا کہ کسی دن اس کی طرف دیکھ کر بھی لوگ اسی طرح کانا پھوسی کریں گے۔ارے کون نہیں جانتا اسے۔۔۔۔۔۔۔؟تو کیا فرق رہ جائے گا اس لڑکی میں اور مجھ میں۔اتنا سوچتے ہی اوشا اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور کنڈکٹر سے بولی۔پلیز ! مجھے یہیں اتار دیں۔۔۔۔‘‘
سہیل جامعی کے اس مجموعے میں کچھ مختصر افسانے بھی ہیں۔جیسے اتحاد،سلسلہ، سچائی، سونے کی چڑیااور وجود وغیرہ وغیرہ۔سچائی ا ن کا مختصر ترین افسانہ ہے،جسے بہت ہی بہتر طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔انتہائی مختصر ہونے کے باوجود یہ افسانہ قاری کو متاثر کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔اسی طرح ان کا ایک اور افسانہ ’سونے کی چڑیا‘ بھی قاری کے دل پر زبردست چوٹ کرتا ہے۔’فرق‘ افسانہ ہمیں شہر کی بھاگ دوڑ بھری زندگی سے روبرو کراتاہے کہ کس طرح آج ہم اپنے پڑوسی تک سے نا آشنا ہیں۔’دہلیز‘ کے افسانوں کا مطالعہ کرنے کے بعد بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سہیل جامعی کو انسانی نفسیات پر گہری پکڑہے۔جس کا فائدہ وہ اپنے افسانوںکو حقیقت سے قریب تر کرنے میں اٹھاتے ہیں۔
امید کی جانی چاہئے کہ سہیل جامعی کا تخلیقی سفر یوں ہی جاری رہے گا۔اور وہ اپنے مصروف ترین وقت میں سے کچھ لمحے چراکر اردو ادب کی خدمت کرتے رہیں گے۔ 24 افسانوں پر مشتمل سہیل جامعی کے افسانو ں کا مجموعہ’ دہلیز‘ گرچہ ایک مختصر مجموعہ ہے ،لیکن اختصار کے باوجود اپنے قاری کو زندگی کے تمام مراحل سے روشناس کرانے میں کامیاب ہے۔بہار کے ایک تاریخی شہردربھنگہ کے خوشحال اور قدامت پسند گھرانے میں آنکھیں کھولنے والے سہیل جامعی کی تعلیم کا سلسلہ جب دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میںشروع ہوا تو پھر انہوں نے سارے تعلیمی مراحل یہیں سے طے کیے۔ دو شہروں کی تہذیبوں کا حسین امتزاج نہ صرف ان کی شخصیت میں جلوہ گر ہے بلکہ ان کے افسانے بھی اس سے اچھوتے نہیں ہیں۔سہیل جامعی گرچہ پیشے سے تاجر ہیں لیکن لکھنے پڑھنے کا شوق ،ان سے اردو ادب کی خدمت کے لیے کچھ وقت نکال ہی لیتا ہے۔اس کا اعتراف وہ خود کرتے ہیں اور کہتے ہیں ’’زندگی کی تمام مصروفیات کے با وجود اپنی تجارتی زندگی کے درمیان سے کچھ لمحے چرااپنی خواہشوں کی تکمیل کر کچھ پڑھنے کے ساتھ لکھنے کی بھی کوشش کرتا ہوں۔‘‘ زیر نظر کتاب ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔اس سے قبل ان کا ایک اور افسانوی مجموعہ ’’لکیر‘‘شائع ہو کر داد و تحسین حاصل کر چکا ہے۔
شیئر بازار ۔تابناک مستقبل کا ضامن
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج کے اس مقابلہ جاتی دور میں ہماری نئی نسل خصوصاً مسلم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے۔یہ زمینی حقیقت ہے کہ جہاں ایک طرف نوجوانوں کی ایک معتد بہ تعداد اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاںلے کر روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں تودوسری جانب نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے، جو مالی وسائل کی کمی یا خاندان کی پرورش کا بار گراں اپنے کندھوں پر آجانے کی وجہ سے ترک تعلیم پر مجبور ہوگیا اور انہیں کسب معاش کے لئے نکلنا پڑا۔ہم نے ایسے نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے ’’نوجوانوں کی دنیا‘‘ کے نام سے ایک کالم شروع کیا ہے،تاکہ وہ تھوڑی اور محنت کرکے اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بناسکیں۔ہم اپنے ہرشمارہ میں قلیل مدتی پروفیشنل کورسز کے بارے میں بات کررہے ہیں اور جاب کے متلاشی اور کریئرسازی کے لئے سرگرداںنوجوانوں کوکورس، اس کی افادیت، مطلوبہ تعلیمی لیاقت اور متعلقہ تعلیمی وتربیتی اداروں کے بارے میں معلومات فراہم کریںگے۔آج ہم جس کورس کے تعلق سے بات کرنے جارہے ہیں،اس کا نام ہے’شیئر بازار‘
عالم کاری کے اس دور میں روزگار کے متعدد نئے شعبے وجود میں آئے ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج بھی ان میں سے ایک ہے۔ اس میں آپ گھر بیٹھے تجارت کرسکتے ہیں اور اچھی خاصی دولت کما سکتے ہیں۔ اس ے علاوہ آپ ایکسپرٹ بن کر دوسروں کی رہنمائی بھی کرسکتے ہیں، جس سے آپ کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اسٹاک ایکسچینج کیا ہے:
اسٹاک ایکسچینج وہ بازار ہے جہاں بروکرس عام لوگوں اور اداروں کے شیئر خریدتے اور بیچتے ہیں۔ ہندوستان کا شیئر بازار اس وقت شاندار نتائج دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سرمایہ کار بلکہ کریئر کی تلاش میں سرگرداں نوجوان بھی شیئر بازار کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں اور اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بنا رہے ہیں۔ ابھی چند دہائیوں قبل تک اس شعبہ میں صرف ممبئی، کولکاتا اور دہلی کے شیئر بازاروں کے ہی تذکرے ہوتے تھے اور آج حال یہ ہے کہ ملک کے ہر بڑے شہر میں شیئر بازار ہے اور ان ہی بازاروں میں اچھی خاصی ٹریڈنگ بھی ہو رہی ہے۔ اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شیئر بازار کا مستقبل تابناک ہے۔
شیئر بازار میں کریئر:
شیئر بازار میں آپ اپنے کریئر کو کئی طرح سے بناسکتے ہیں۔ مثلاً ماہر معاشیات، اکاؤنٹینٹ، معاشی تجزیہ کار، انویسٹ انالسٹ، کیپٹل مارکیٹ انالسٹ، فیوچر پلانرس، سیکورٹی انالسٹ اور ایکوٹی انالسٹ وغیرہ۔
شیئر بازار میں سب سے اہم شخص اسٹاک بروکر ہوتا ہے۔ اسٹاک بروکر کمیشن لے کر کسی شخص یا ادارے کے لیے شیئر خریدنے کا کام کرتا ہے۔ عام زبان میں اسے شیئر دلال بھی کہتے ہیں، چونکہ شیئر بازار کی مشکلات کو سمجھنا، اس کی پیش گوئی کرنا اور اس پیش گوئی کی بنیاد پر نفع ونقصان کو ذہن میں رکھ کر خرید و فروخت کرنا آسان کام نہیں ہے، اس لیے شیئر بازار میں ان دلالوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، جو دلال شیئربازار میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو انجام دیتے ہیں ان کی مارکیٹ میں زیادہ مانگ ہوتی ہے۔ چونکہ یہ کام صلاحیت کے ساتھ مہارت بھی چاہتا ہے، اس لیے اچھا بروکر بننے کے لیے دلچسپی اور لگن کے ساتھ ساتھ غیرمعمولی ذہانت کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔
کچھ اسٹاک بروکر نجی گاہکوں کے لیے کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ تو کچھ مختلف اداروں سے وابستہ ہو کر ان کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایسے شیئر بروکر جو اداروں کے لیے کام کرتے ہیں، انہیں سیکورٹی ٹریڈر بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ بروکر مالی اداروں کے لیے کنسلٹنسی کا بھی کام کرتے ہیں۔ اداروں کے لیے سیکورٹی خریدنے اور فروخت کرنے والے اسٹاک بروکر کمیشن کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ یہی طریقہ نجی گاہکوں کے ساتھ بھی اپنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جو اسٹاک بروکر کسی مالی ادارے کے لیے مشیر کا کام کرتا ہے، اسے ایک متعین تنخواہ ملتی ہے۔ جہاں تک کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ آمدنی کا سوال ہے تو کسی بھی شیئر بروکر کی کم سے کم آمدنی10ہزار روپے فی ماہ سے زیادہ ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔
اسٹاک بروکر کی طرح سیکورٹی انالسٹ جیسے ماہرین کی مانگ میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، کیوںکہ شیئر بازار ہمیشہ ہی منافع کا کار و بار نہیں ہے، اس میں کئی بار نقصان بھی ہوجاتا ہے۔ سیکورٹی تجزیہ کار دراصل اس رسک فیکٹر کا تجزیہ کرتا ہے، اس لیے اس کی گائڈ لائن پر ہونے والی سرمایہ کاری میں نقصان کے خطرات کم رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے مختلف کمپنیاں جو الگ الگ شعبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، سیکورٹی تجزیہ کاروں کی خدمات لیتی ہیں۔ یہ سیکورٹی تجزیہ کار اپنے نتیجے نکالنے کے لیے بازار کو اپنی کسوٹی میں الگ الگ طریقے سے کستے ہیں اور بازار میں نفع ونقصان کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ایک عام سیکورٹی انالسٹ کی آمدنی 10سے 15ہزار روپے فی ماہ کم سے کم ہوتی ہے۔ جب کہ زیادہ سے زیادہ آمدنی کی کوئی حد نہیں ہے، جو سیکورٹی انالسٹ جتنا زیادہ صحیح تجزیہ کرتا ہے، اس کی مارکیٹ ویلیو اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔
شیئر بازار کا ایک اور اہم شخص ایکوٹی انالسٹ ہے۔ یہ ہندوستانی کیپٹل مارکیٹ کی ترقی اور بڑھتی مقابلہ آرائی کے سبب پیدا ہوا نیا پروفیشنل ہے۔ ایکوٹی تجزیہ کار کسی شخص یا ادارے کو سرمایہ کاری کے بارے میں مشورہ دیتے ہیں۔ ایسے وقت جب بازار کی طاقتیں اثردار کردار ادا کر رہی ہوں، یعنی جب بازار بناؤٹی تیزی یا مندی کا شکار ہو، اس وقت ایکوٹی انالسٹ ہی سرمایہ کار کو بتاتے ہیں کہ انہیں سرمایہ کاری کرنی چاہیے یا نہیں۔
شیئر بازار کے دیگر اہم انسانی وسائل میں انویسٹمنٹ مینجمنٹ، سیکورٹی ریپرزینٹیٹو اور اکاؤنٹ ایگزیکٹیو بھی ہیں۔ ان سب کے لیے بھی شیئر بازار کی سمجھ ہونا ضروری ہے۔
کیسے بنیں اسٹاک بروکر:
اسٹاک ایکسچینج کا ممبر بننے کے لیے آپ کو ایک تحریری امتحان اسٹاک ایکسچینج میں سیکورٹی کے طور پر کچھ رقم جمع کرانا ہوتی ہے۔ آپ چاہیں تو اسٹاک بروکرنگ کمپنی کے ایجنٹ یا ڈیلر کے طور پر کام کر کے تجربہ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ بروکنگ کرنے والی بڑی کمپنیاں فائنانس میں مہارت رکھنے والے ایم بی اے ڈگری والوں، چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس اور چارٹرڈ فائنانس انالسٹ کو اولیت دیتی ہیں۔ ایک اسٹاک بروکر کے خاص کاموں میںشیئر بازار کی شرائط کو آسان کرنا اور اپنے گاہک کے لیے تجارتی سرگرمیاں انجام دینا وغیرہ ہیں۔
اسٹاک بروکر ایک ڈیلر اور ایک مشیر کے طور پر کام کرسکتا ہے، جو اپنے علم کی بنیاد پر گاہکوں کو نئے شیئروں کے مستقبل کے بارے میں پوری معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ بازار کے حالات کا تجزیہ کرتا ہے اور اس تجزیہ کی بنیاد پر اپنے گاہک کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ عام طور سے پروفیشنل اہلیت کے ساتھ ایم بی اے اور پوسٹ گریجویشن کی ڈگری والا کوئی بھی امیدوار اس شعبہ میں اپنا کریئر بناسکتا ہے۔ اس شعبہ میں آمدنی کے لامحدود موا قع ہیں۔
اسٹاک بروکنگ کے ادارے:
اسٹاک ایکسچینج بھون، فورٹ، ممبئی
بی/303وینٹیکس وکاس، اندھیری، ممبئی
نئی دہلی
ناسک-422005 1- ممبئی اسٹاک ایکسچینج ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ 2- انسٹی ٹیوٹ آف فائنانشیل اینڈ انویسٹمنٹ پلاننگ 3- انسٹی ٹیوٹ آف کمپنی سکریٹریز آف انڈیا 4- انسٹی ٹیوٹ آف کیپٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ 1965آریہ سماج روڈ، قرول باغ، نئی دہلی-5 5- آل انڈیا سینٹر فار کیپٹل مارکیٹ اسٹیڈیز اینڈ ریسرچ
ہوٹل مینجمنٹ میں تابناک کریئر
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج کے اس مقابلہ جاتی دور میں ہماری نئی نسل خصوصاً مسلم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے۔یہ زمینی حقیقت ہے کہ جہاں ایک طرف نوجوانوں کی ایک معتد بہ تعداد اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاںلے کر روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں تودوسری جانب نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے، جو مالی وسائل کی کمی یا خاندان کی پرورش کا بار گراں اپنے کندھوں پر آجانے کی وجہ سے ترک تعلیم پر مجبور ہوگیا اور انہیں کسب معاش کے لئے نکلنا پڑا۔ہم نے ایسے نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے ’’نوجوانوں کی دنیا‘‘ کے نام سے ایک کالم شروع کیا ہے،تاکہ وہ تھوڑی اور محنت کرکے اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بناسکیں۔ہم اپنے ہرشمارہ میں قلیل مدتی پروفیشنل کورسز کے بارے میں بات کررہے ہیں اور جاب کے متلاشی اور کریئرسازی کے لئے سرگرداںنوجوانوں کوکورس، اس کی افادیت، مطلوبہ تعلیمی لیاقت اور متعلقہ تعلیمی وتربیتی اداروں کے بارے میں معلومات فراہم کریںگے۔آج ہم جس کورس کے تعلق سے بات کرنے جارہے ہیں،اس کا نام ہے ’’ہوٹل مینجمنٹ‘‘
کورس کا نام:ہوٹل مینجمنٹ
کورس کی اہمیت و افادیت:
ہرایک تجارت میں نشیب و فرازآتے رہتے ہیں۔لیکن ہوٹل تجارت ایک ایسی تجارت ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ترقی کی جانب گامزن ہے۔پوری دنیا میں تیزی سے پنپتی پانچ ستارا ہوٹل تہذیب نے اس شعبہ میں کریئر کے لامحدود مواقع فراہم کئے ہیں۔ہوٹلوں کو چلانے کے لئے باقاعدہ تربیت یافتہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ایک بڑی مانگ اس شعبہ میں ہے۔اس لئے ہوٹل مینجمنٹ میں باقاعدہ تربیت حاصل کر کے آپ بھی اپنے مستقبل کو تابناک بنا سکتے ہیں۔
آج کی مادی دنیا میں خوشحال لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ کہیں نہ کہیں ہوٹلوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک اچھے منافع اور کاروبارو تجارت کے سبب ہوٹلوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ہوٹل دورحاضر کی تہذیب کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ کسی طرح کی پارٹی کا انعقاد ہو یا کمپنی سے متعلق میٹنگ ، صارفین سے متعلق سیمنار ہو یا نئے پروڈکٹ کی لانچنگ یا پھر پریس کانفرنس کا موقع کیوں نہ ہو۔ ان مواقع پر ہوٹل کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تجارت کے سبب سیاحت کے شعبہ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سیاحت کے فروغ نے ہوٹل کے شعبہ میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔
تعلیم یافتہ او رباصلاحیت نوجوانوں کی دلچسپی تیزی کے ساتھ ہوٹل مینجمنٹ سے متعلق کورسیز کے تئیں بڑھی ہے۔انگریزی اور دیگر مقامی زبان جاننے والے نوجوان لڑکے لڑکیاں، جواپنی شخصیت میں چار چاند لگانا چاہتے ہیں، کے لئے یہ میدان امکانات سے روشن ہے۔ تبادلۂ خیالات کی صلاحیت ، دوسروں کو متاثر کرنے کی خوبی اور استقبال کا جذبہ آپ کو اس میدان میں کبھی پیچھے مڑ کر دیکھنے کا موقع نہیں دے گا۔کیونکہ ہوٹل تجارت پوری طرح مہمان نوازی اور خدمت کے جذبے سے سرشار شعبہ ہے۔
محنتی، خوش مزاج، ملنسار، صحت مند، خوبصورت اور باذوق نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لئے ہوٹل مینجمنٹ ایک بہترین کریئر ہے۔ ون اسٹار سے لے کر فائیو اسٹار ہوٹل اور ٹورسٹ ہوٹلوں میں مندرجہ بالا نوجوان تربیت کے بعد اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔ یہی نہیں تربیت یافتہ نوجوانوں کے لئے فلوئنگ ہوٹل، شینگ کمپنی ، ایئر پورٹ ہوٹل وغیرہ میں چیف رسپشن آفیسر ،فوڈ پروڈکشن، ہائوس کیپنگ، بیوٹریشین، اکائونٹنٹ ، گائڈ ،ویٹر وغیرہ کے عہدوں پر پہنچنے کے مواقع انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اس شعبہ میں آپ کے لئے تعلقات استوار کرنے کے بھی بہتر مواقع ہیں۔اہم لوگوں سے رابطہ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ مختلف میدانوں کے کامیاب لوگوں سے ملنے کے بعد کافی کچھ سیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔
محنتی، خوش مزاج، ملنسار، صحت مند، خوبصورت اور باذوق نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لئے ہوٹل مینجمنٹ ایک بہترین کریئر ہے۔ ون اسٹار سے لے کر فائیو اسٹار ہوٹل اور ٹورسٹ ہوٹلوں میں مندرجہ بالا نوجوان تربیت کے بعد اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔ یہی نہیں تربیت یافتہ نوجوانوں کے لئے فلوئنگ ہوٹل، شینگ کمپنی ، ایئر پورٹ ہوٹل وغیرہ میں چیف رسپشن آفیسر ،فوڈ پروڈکشن، ہائوس کیپنگ، بیوٹریشین، اکائونٹنٹ ، گائڈ ،ویٹر وغیرہ کے عہدوں پر پہنچنے کے مواقع انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اس شعبہ میں آپ کے لئے تعلقات استوار کرنے کے بھی بہتر مواقع ہیں۔اہم لوگوں سے رابطہ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ مختلف میدانوں کے کامیاب لوگوں سے ملنے کے بعد کافی کچھ سیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔
ہوٹل تجارت کی بات وہاں بننے والے لذیذ کھانوں کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔کنفیکشنری اور کھانے کا شعبہ ہوٹل کا ایک اہم حصہ ہے۔اس شعبہ میں معمولی اہلیت اور بغیر تجربے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔بڑے ہوٹلوں میں فوڈ کرافٹ انسٹی ٹیوٹ کے تربیت یافتہ لوگوں کو تعینات کیا جاتا ہے۔ملک میں بہت سے ایسے ادارے ہیں جو اس سے متعلق تربیت کورس چلا رہے ہیں۔اس تجارت میں شیف دی پارٹی عہدوں کے لئے بھی قابل، تجربہ کار اور ادھیڑ لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔جن لوگوں کے پاس ہوٹل مینجمنٹ میں تین سالہ ڈپلومہ اور کم سے کم پانچ سال کا تجربہ ہوتا ہے، انہیں ان عہدوں کے لئے ترجیح دی جاتی ہے۔
حکومت ہند کی وزارت برائے سیاحت کی دیکھ ریکھ میں نیشنل کائونسل آف ہوٹل مینجمنٹ اینڈ کیٹرنگ ٹکنالوجی ملک بھر میں پھیلے اپنے 20اداروں کی مدد سے ہوٹل مینجمنٹ میں تین سالہ ڈپلومہ کورس چلا رہا ہے۔ اس میں ڈپلومہ حاصل کرنے کے لئے ایک کمبائنڈ انٹرینس ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ہر سال فروری کے مہینے میں یہ امتحان منعقد کیا جاتا ہے۔22سال سے کم عمر کے دسویں بارہویں سائنس مضامین کے ساتھ پاس نوجوان لڑکے لڑکیاں اس امتحان میں شرکت کی اہلیت رکھتے ہیں۔ڈھائی گھنٹے کی مدت کے اس امتحان میں معروضی سوالوں کے جواب دینے ہوتے ہیں۔تحریری امتحان پاس کرنے والے کامیاب امیدواروں کو انٹر ویو کے لئے بلایا جاتا ہے۔ بعد میں میرٹ کی بنیاد پر ان کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ منتخب امیدواروں کو تین سال کی مدت میں کل 36مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ عملی تربیت کے لئے الگ سے کلاسیں لی جاتی ہیں۔ ہوٹل مینجمنٹ کے شعبہ میں ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد ادارہ حاملین اسناد کو مختلف ہوٹلوں میں عملی تربیت کے لئے بھیجتا ہے۔جہاں ٹریننگ کے دوران انہیں ڈیڑھ ہزار روپے سے تین ہزار روپے تک وظیفہ ملتا ہے۔
کورسیز:
ہوٹل مینجمنٹ کے اداروں میں مختلف کورس دستیاب ہوتے ہیں۔جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
ڈپلومہ ان ہوٹل مینجمنٹ اینڈ کیٹرنگ ٹکنالوجی (تین سال)۔
پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ان اکوموڈیشن آپریشن مینجمنٹ (ہائوس کیپنگ ، فرنٹ آفس)ڈیڑھ سال۔
پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کورس ان ڈائٹیٹکس اینڈ ہاسپیٹل فوڈ سروس (ایک سال)۔
سرٹیفکیٹ کورس ان ہوٹل کیٹرنگ مینجمنٹ(21ہفتے، سال میں 2بیچ)۔
کرافٹ مین شپ کورس ان فوڈ اینڈ بیوریج سروس(6ماہ، سال میں دو بیچ)۔
یہی نہیں خواتین کے لئے کوکری، بیکری اور کنفیکشنری کے 13ہفتوں کے (ہفتے میں2بار کلاس) کورس بھی کرائے جاتے ہیں۔ہوٹل مینجمنٹ میں تین سالہ ڈپلومہ کورس پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کورس بھی کرائے جاتے ہیں،جن کی فیس کورس کے مطابق ہوتی ہے۔
پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ان اکوموڈیشن آپریشن مینجمنٹ (ہائوس کیپنگ ، فرنٹ آفس)ڈیڑھ سال۔
پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کورس ان ڈائٹیٹکس اینڈ ہاسپیٹل فوڈ سروس (ایک سال)۔
سرٹیفکیٹ کورس ان ہوٹل کیٹرنگ مینجمنٹ(21ہفتے، سال میں 2بیچ)۔
کرافٹ مین شپ کورس ان فوڈ اینڈ بیوریج سروس(6ماہ، سال میں دو بیچ)۔
یہی نہیں خواتین کے لئے کوکری، بیکری اور کنفیکشنری کے 13ہفتوں کے (ہفتے میں2بار کلاس) کورس بھی کرائے جاتے ہیں۔ہوٹل مینجمنٹ میں تین سالہ ڈپلومہ کورس پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کورس بھی کرائے جاتے ہیں،جن کی فیس کورس کے مطابق ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ گریجویٹ اسکول آف ہوٹل ایڈمنسٹریشن، دہلی ویو ہوٹل(ویلکم گروپ) منی پال بھی قومی سطح پر تحریری اور زبانی امتحان منعقد کر کے امیدواروں کا انتخاب کرتا ہے۔ یہ ادارہ بھی ہوٹل مینجمنٹ کے سبھی نقطوں کی باقاعدہ جانکاری دستیاب کراتا ہے۔ اس ادارہ نے ایک پلیسمنٹ سیل بھی کھولی ہوئی ہے۔ جہاں سے ملک اور بیرون ملک نوکری مل سکتی ہے۔ یہ ادارہ اعلیٰ تربیت کے لئے اپنے طلبا کو امریکہ سمیت دیگر ممالک میں بھیجتا ہے۔
ایک دیگر ادارہ اوبرائے اسکول آف ہوٹل مینجمنٹ بھی ہوٹل مینجمنٹ کے معاملہ میں باوقار ادارہ مانا جاتا ہے۔ یہ ادارہ انٹر نیشنل ہوٹل ایسو سی ایشن ان پیرس سے منظور شدہ ہے۔ زیادہ تر ہندوستانی ہوٹلوں کے بڑے عہدیداراس ادارہ کے گریجویٹ ہیں۔ یہاں سے تین سالہ ڈپلومہ کرنے کے بعد تربیت یافتہ نوجوان معاون منیجر کے طور پر نوکری حاصل کر سکتے ہیں۔ یہاں سے تین سالہ ڈپلومہ کے بعد پی جی ڈپلومہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
ہوٹل انڈسٹری میں لڑکیوں کے لئے بھی کافی مواقع ہیں۔ ہوسٹیس عہدوں کے لئے عام طور پر 22سے 26سال کی عمر کی لڑکیوں کو لیا جاتا ہے۔فراٹے دارانگریزی، متعلقہ شعبہ کا تجربہ، غیر ملکی زبان کا علم اور لوگوں کو ڈیل کرنے کا سلیقہ اس کے لئے ضروری اہلیت ہے۔
مجموعی طورپر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہوٹل مینجمنٹ کے شعبہ میں قدم رکھ کر آج کے نوجوان اپنے روشن اور تابناک مستقبل کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر سکتے ہیں۔
اہم ادارے:
اہم ادارے:
n اوبرائے سینٹر، دہلی
7، شام ناتھ مارگ، نئی دہلی110054-
n آئی ایچ ایم،ممبئی
ویر سوارکر مارگ، دادر(ڈبلیو آر)، ممبئی400028-
n ڈبلیو جی ایس ایچ اے، منی پال
7، شام ناتھ مارگ، نئی دہلی110054-
n آئی ایچ ایم،ممبئی
ویر سوارکر مارگ، دادر(ڈبلیو آر)، ممبئی400028-
n ڈبلیو جی ایس ایچ اے، منی پال
ویلی ویو، منی پال576119-
n آئی ایچ ایم، دہلی
نیشنل کونسل فار ہوٹل مینجمنٹ اینڈ کیٹرنگ ٹکنا لوجی، پوسا، نئی دہلی
n آئی ایچ ایم، اورنگ آباد
ڈاکٹر رفیع ذکریہ کیمپس، روزہ باغ، اورنگ آدباد431001-
n آئی ایچ ایم، دہلی
نیشنل کونسل فار ہوٹل مینجمنٹ اینڈ کیٹرنگ ٹکنا لوجی، پوسا، نئی دہلی
n آئی ایچ ایم، اورنگ آباد
ڈاکٹر رفیع ذکریہ کیمپس، روزہ باغ، اورنگ آدباد431001-
n آئی ایچ ایم بنگلور
ایس جے پولی ٹیکنک کیمپس، سیشادری روڈ، بنگلور560001
ایس جے پولی ٹیکنک کیمپس، سیشادری روڈ، بنگلور560001
Friday, February 18, 2011
Tabsara on (Freezar mein rakhi shaam)
مصنف : نعمان شوقؔ
ضخامت : 244صفحات
قیمت : 150روپے
ملنے کا پتہ : تخلیق کار پبلشرز ،104/Bیاور منزل لکشمی نگر،دہلی
تبصرہ نگار : فرمان چودھری
غزلیہ شاعری جتنی مقبول ہے نظمیہ شاعری بھی اس سے کم مقبول نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں بھی جب کہ نظم کہنے والے شعرا کا قحط سا ہو گیا ہے،چند شعرا آج بھی نظم کی بنجر زمین میں اپنی فکر کے ہل چلا رہے ہیں۔انہیں چند مخصوص شعرا کی فہرست میں ایک نام نعمان شوق کا بھی ہے۔آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ نعمان شوق شاعری کی دونوں اصناف غزل اور نظم میں مکمل عبور رکھتے ہیں۔اس کا اندازہ ان کے زیر نظر مجموعہ کلام ’’فریزر میں رکھی شام ‘‘سے ہو جاتا ہے۔نعمان شوق نے اپنے اس مجموعہ میں کل ملاکر 91نظموں کو شامل کیا ہے اور اس بھرم کو قائم رکھا ہے کہ آج بھی شاعری میں اظہار کا اصل وسیلہ نظمیں ہی ہیں۔جو شاعر اس بات کا اقرار کرتا ہو کہ لکھنا اس کا شوق نہیں بلکہ مجبوری ہے تو اس شاعر کی تخلیق کے معیار کا بخوبی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔مزاجاً تنہائی پسند نعمان شوق جہاں تشدد ،جھوٹ اور مکاری سے سخت نفرت کا اظہار کرتے ہیں وہیںفرقہ پرستی اور دہشت گردی کو انسان کا سب سے بڑا دشمن تصور کرتے ہیں۔اس کا اظہار وہ اپنی نظموں میں جا بجا کرتے ہیں۔سرحد پر،مکھیہ دھارا میں،سڑک کے دونوں طرف خیریت ہے،جنگ،ڈوبتی ناؤ،گراؤنڈ زیرو اور زمین کا جنرل نالج وغیرہ اسی قبیل کی نظمیں ہیں۔ڈوبتی ناؤ ان کی مختصر سی نظم ہے لیکن جذبہ کی شدت اس نظم میں اپنے عروج پر ہے۔
نظریات کی سیڑھیوں کے نیچے
کھدائی جاری ہے
پوری طاقت سے پکڑے رہیے
اپنے اپنے ملک،مذہب
اور عقیدے کے سانپوں کی دم
جیسے پکڑے رہتے ہیں
ڈوبتی ناؤ پر سوار لوگ
ایک دوسرے کو!
نعمان شوق جہاں بہترین تخلیق کار ہیں وہیں وہ تنقیدی بصیرت سے بھی مالامال ہیں۔اس لیے ان کی نظمیں صرف الفاظ کی نشست و برخاست تک ہی محدود نہیں ہیںبلکہ آج کے مادہ پرست اور پر فتن دور میں وہ اپنی شاعری کے ذریعہ ایک پیغام دینا چاہتے ہیں، جس میں وہ کامیاب بھی ہیں۔انہوں نے عشقیہ نظمیں نہیں کہیں۔اس کا برملا اظہار وہ یوں کرتے ہیں۔’’میں نے عشقیہ نظمیں نہیں لکھیں کیونکہ کسی ہیر کے دو پٹے میں میرے نام کی کوئی گانٹھ نہیں لیکن عشق کا جو مکروہ اور ہیبت ناک چہرہ میں نے مہا نگر میں دیکھا اس کی جھلک کہیں کہیں میری نظموں میں ضرور ملتی ہے۔جسم سے ایک نوع کی بیزاری میری فکر کو روح پر مرکوز کرتی ہے‘‘۔’ایک غیر ضـروری نظم ،’اس کا ساتھ‘ اور’ فریزر میں رکھی شام‘ نظموں کو اسی زمرے میں رکھ سکتے ہیں۔’صرف نظم‘ کا یہ آخری بند ملاحظہ کیجیے۔کھدائی جاری ہے
پوری طاقت سے پکڑے رہیے
اپنے اپنے ملک،مذہب
اور عقیدے کے سانپوں کی دم
جیسے پکڑے رہتے ہیں
ڈوبتی ناؤ پر سوار لوگ
ایک دوسرے کو!
گناہ اور تاسف کی
اس بے کنار جلوہ گاہ میں
چلنے اور تھکنے کے درمیان
خوف اور حیرانی کے بھنور میں
الجھ کر رہ گئی ہے انسانیت
اور ہم!
شاعری کر رہے ہیں
صرف شاعری!
نعمان شوق کے مجموعے کی پہلی نظم کا عنوان’’موسم بہار کی پہلی نظم‘‘ اور آخری نظم کا عنوان’’ موسم بہار کی آخری نظم ‘‘ہے۔ان دو نظموں کے بیچ نعمان شوق کسی بھی ازم سے غیر وابستہ ہوکر اپنی نظموں میں زندگی کے کسی بھی مسئلے کو نہیں چھوڑ تے ہیں۔بقول ان کے’’اس نام نہاد ترقی اور گلوبلائزیشن کے عہد میں میرے آس پاس جو کچھ رو نما ہو رہا ہے خود کو اس سے الگ تھلگ رکھنا میرے بس میں نہیں۔البتہ میں ان واقعات کو تاریخی حقائق کے طور پر نہیں بلکہ انسانی المیہ کی شکل میں دیکھتا ہوں‘‘۔امید کی جانی چاہئے کہ نعمان شوق کا یہ مجموعہ نہ صرف ادبی حلقوں میں اپنی موجودگی کا احساس کرائے گا بلکہ نظم کہنے والے شعرا کی ہمت میں اضافہ بھی کرے گا۔اس بے کنار جلوہ گاہ میں
چلنے اور تھکنے کے درمیان
خوف اور حیرانی کے بھنور میں
الجھ کر رہ گئی ہے انسانیت
اور ہم!
شاعری کر رہے ہیں
صرف شاعری!
سنتوش بھارتیہ ’’آفتاب صحافت‘‘ ایوارڈ سے سرفراز
نئی دہلی:آل انڈیا تنظیم علمائے حق کے زیر اہتمام دہشت گردی اور فرقہ پرستی کے سد باب کے لیے قومی یکجہتی کنونشن کا انعقاد نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں کیا گیا۔جس میں اردو کے پہلے بین الاقوامی ہفت روزہ اخبار چوتھی دنیا کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ کو ان کی اردومیں صحافتی خدمات کے اعتراف میں’آفتاب صحافت‘ ایوارڈ سے نوازا گیا۔کنونشن میں کانگریس کے سینئر لیڈر آسکر فرنانڈیز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی ملک کی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں فرقہ پرستی کے خلاف ہم سب کو قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے ۔انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ یو پی اے حکومت اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے تئیں پوری طرح سنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی کے لیے کئی اسکیموں کو نافذ کیا ہے۔
ایران کلچرہاؤس کے کلچرل کاؤنسلر ڈاکٹر کریم نجفی نے ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب کو یہاں کا عظیم سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دنیا میں ہندو مسلم اتحاد کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔اس لیے اسے برقرار رکھنا ہر حال میں ضروری ہے۔انہوں نے بتا یا کہ علامہ اقبالؔ اور رابندر ناتھ ٹیگورایران کے حافظ شیرازی اور دیگر شعرا سے بہت متاثر تھے۔
قومی یکجہتی کنونشن میں چوتھی دنیا کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ نے اپنی تقریر سے پہلے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اردو نہیں جانتے ہیںاور ان کا اردو اخبار کاخواب چوتھی دنیا اردو کی مدیر وسیم راشد کے سبب شرمندۂ تعبیر ہو پایا ہے۔انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ مردوں کی دنیا میں وسیم راشد اکیلی خاتون ایڈیٹر ہیں۔بھارتیہ جی نے اپنی پوری تقریر اردو ہی میں کی۔جس سے وہاں موجود سامعین بے حد متاثر ہوئے۔انہوں نے کہا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں پھر بھی مذہب اسلام سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔کیونکہ اسلام نے محبت اور انسانیت کی تعلیم دی ہے۔انہوں نے ہال میں موجود لوگوںکو اس وقت انتہائی جذباتی کر دیا جب انہوں نے کہا کہ وہ اردو نہ جانتے ہوئے بھی اردو کی لڑائی لڑنا چاہتے ہیں کیونکہ اردو گنگا جمنی تہذیب کی زبان ہے،اردونے ملک کو آزادی دلائی،اردو نے خواب کو ایک تعبیر دی،اردو نے ملک کو ایک لڑی میں پرویا اور اردو نے قومی یکجہتی کو فروغ دیا۔انہوں نے وہاں موجود تمام لوگوں سے کہا کہ ہم سب کو مل جل کر قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہئے۔ حالانکہ انہوں نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ اس انتہائی اہم موضوع پر منعقد قومی کنونشن میں خواتین کی شرکت نہ کے برابر ہے ،جبکہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ،جیسا کہ آج میں یہاں تک اپنی بیگم کی وجہ سے پہنچا ہوں۔
مولانا احمد خضر شاہ نے جذباتی انداز میںکہا کہ حکومتوں نے کمیٹیاں قائم کیں،ان کی رپورٹیں منظر عام پر آئیں،لیکن ان پر عمل کرنے میں تساہلی کا مظاہرہ کیا گیا۔اس لیے آج ضرورت مرض کے تشخیص کی نہیں بلکہ علاج کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مدارس اسلامیہ میں اتحاد ،قربانی ،یکجہتی اور آزادی کی تعلیم دی جاتی ہے۔اور اسے ہمارے اکابرین نے اپنے عمل سے ثابت بھی کیا ہے۔
اس مو قع پر سہ ماہی حسن تدبیر کے خصوصی شمارہ’مدارس نمبر‘ اور ماہنامہ نعرۂ تکبیر کی ایران کے حوالے سے خصوصی اشاعت کا اجراء بھی عمل میں آیا۔اس سے قبل قاری عبدالسمیع نے قومی یکجہتی کے حوالے سے ایک خوبصورت نظم اپنے مخصوص انداز میں پیش کی۔
قومی یکجہتی کنونشن کی صدارت مولانا اعجاز عرفی قاسمی نے کی ۔انہوں نے قومی یکجہتی کنونشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں بالعموم اور ہندوستان میں بالخصوص محبت کو اندھیروں کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔انگریزوں نے ہندو مسلم یکجہتی میں زہر گھولا تھا ،جس کی جڑیں آج بھی کمزور نہیں ہوئی ہیں۔اس لیے ہمیں ایک بار پھر اس پہلو پر ازسر نو ملک گیر محنت کرنی پڑے گی۔
قومی یکجہتی کنونشن میں مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی اہم شخصیات کو بھی اعزازات سے نوازا گیا،ان میں اتر پردیش کے سابق وزیرڈاکٹر معراج الدین،جمعیۃ القریش دہلی کے صدر ساجد عتیق،مولاناروشن عالم مظاہری،میرحسن علوی،اشتیاق حسین رفیقی،خالدانور،مولاناالطاف حسین مظاہری،ڈاکٹر کاشف ذکائی،قاری شمس الدین،محمد عزیز بقائی،محمد ریاض الدین ،مولانا معین الحق قاسمی،ڈاکٹر تاج الدین انصاری اور محمد شارق عرف آشو خان وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ قومی یکجہتی کنونشن کی نظامت کے فرائض مفتی افروز عالم قاسمی نے انجام دئے۔جبکہ کنونشن کا افتتاح قاری ابوالحسن اعظمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔
संतोष भारतीय को आफ़ताब-ए-सहाफ़त अवार्ड
फरमान चौधरीअधिवेशन में चौथी दुनिया के प्रधान संपादक संतोष भारतीय ने कहा कि वह उर्दू न जानते हुए भी उर्दू की लड़ाई लड़ना चाहते हैं, क्योंकि उर्दू गंगा-जमुनी तहज़ीब की ज़ुबान है, उर्दू ने देश को आज़ादी दिलाई, उर्दू ने ख्वाब को ताबीर दी, उर्दू ने देश को एक लड़ी में पिरो दिया और उर्दू ने राष्ट्रीय एकता का विकास किया. उन्होंने वहां मौजूद तमाम लोगों से कहा कि हम सबको मिलजुल कर राष्ट्रीय एकता के विकास के लिए काम करना चाहिए. इस अवसर पर त्रैमासिक हुस्न-ए-तदबीर के विशेष अंक मदारिस नंबर और मासिक नारा-ए-तकबीर के ईरान के हवाले से विशेष अंक का विमोचन भी हुआ. राष्ट्रीय एकता अधिवेशन में विभिन्न क्षेत्रों में बेहतरीन सेवाएं प्रदान करने वाले अहम लोगों को भी सम्मानित किया गया, जिनमें उत्तर प्रदेश के पूर्व मंत्री डॉक्टर मेराजुद्दीन, जमीअतुल कुरैश दिल्ली के अध्यक्ष साजिद अतीक़, मौलाना रोशन आलम मज़ाहिरी, मीर हसन अल्वी, इश्तियाक़ हुसैन रफ़ीक़ी, ख़ालिद अनवर, मौलाना अल्ताफ़ हुसैन मज़ाहिरी, डॉ. काशिफ़ ज़काई, क़ारी शम्सुद्दीन,मोहम्मद अज़ीज़ बक़ाई, मोहम्मद रियाज़ुद्दीन, मौलाना मुईनुल हक क़ासमी, डॉक्टर ताजुद्दीन अंसारी और मोहम्मद शारिक़ उर्फ़ आशू ख़ां आदि के नाम उल्लेखनीय हैं. अधिवेशन का संचालन मुफ़्ती अफ़रोज़ आलम क़ासमी ने किया, जबकि उद्घाटन क़ारी अबुल हसन आज़मी की तिलावते कुरआन-ए-पाक से हुआ. |
Wednesday, February 16, 2011
Tabsara on ''Shehar Khamosh hai"
(نام کتاب : شہر خاموش ہے(شعری مجموعہ
مصنف : شاہد ماہلی
ضخامت : 244صفحات
ملنے کا پتہ : 302تاج انکلیو، گیتاکالونی،دہلی6
تبصرہ نگار : فرمان چودھری
مصنف : شاہد ماہلی
ضخامت : 244صفحات
ملنے کا پتہ : 302تاج انکلیو، گیتاکالونی،دہلی6
تبصرہ نگار : فرمان چودھری
زیر نظر مجموعہ میں 76غزلیں اور 39نظمیں شامل ہیں۔مجموعہ کا مطالعہ کرنے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ شاہد ماہلی ان چند شعرا میں سے ایک ہیں جو شاعری کی دونوںاصناف نظم اور غزل پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔شاہد ماہلی کے فن پر اظہار خیال کرتے ہوئے شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں’’غزل کی دنیا میں شاہد ماہلی کے یہاں تمثیل اور استعارے کا رنگ کم نظر آتا ہے۔نظموں میں تو متکلم اپنے خیالوں اور اپنے خوابوں کا تذکرہ اپنے سننے والوں یا پڑھنے والوں سے کر ہی دیتا ہے،چاہے وہ کسی بھی پردے کے پیچھے سے کیوں نہ ہو ۔لیکن غزل میں شاہد ماہلی تجربات کا بیان براہ راست کرتے ہیں۔اپنی مایوسیوں ،شکستوں اور فریب خوردگیوں کا ذکر ان کے یہاں ایک عجب تلخی اورایک غمگین بیچارگی کے ساتھ ہوا ہے۔زندگی اور محبت اور موت ان کے لیے کسی لطف یا کامیابی کا امکان نہیں رکھتیں۔شاہد ماہلی کی غزلوں میں انسان سب کچھ دیکھ کر اب چپ چاپ بیٹھا ہوا گذشتہ اور حال کو یکجا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔شاہد ماہلی ایک ایسے شاعر ہیں جو اگر اپنے اندر کی دنیا سے باخبر رہتے ہیں تو اپنے باہر کی دنیا سے بھی منھ نہیں موڑتے ہیں۔مثال کے طور پر ان کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے ۔
چارسو دشت میں پھیلا ہے اداسی کا دھواںپھول سہمے ہیں،ہوا ٹھہری ہے،منظر چپ ہیں
شکستہ حال تمناؤں کا عذاب نہ دے
متاع درد بہت ہے اب اضطراب نہ دے
سیاہ رات کی تنہائیاں گوارہ ہیں
جو ہو سکے تو سحر دے سنہرے خواب نہ دے
شاہد ماہلی اپنی غزلوں میں بڑی سادگی کے ساتھ ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ قاری کو ان کی غزلوں میں اپنی زندگی کا عکس دکھائی دینے لگتا ہے۔ شاید یہی غزل کی مقبولیت کا سبب بھی ہے۔شاہد ماہلی کی غزلوں سے متاثر ہوکر شمیم حنفی کہتے ہیں’’شاہد کی غزلوں میں روایت شناسی اور نوکلاسیکیت کے اثرات صاف دکھائی دیتے ہیں۔ موضوعات، تجربات، اسلوب بیان اور زبان،سب کی سطح پر وہ اسی شریعت کے پابند رہتے ہیں۔ نئی حسیت اور بصیرت کے اظہار کی صورتیں ،اسی لیے ان کی غزل کے کم شعروں میں نمودار ہوئی ہیں‘‘۔چند اشعار پیش ہیں۔
اک آنچ تھی کہ جس سے سلگتا رہا وجودشعلہ سا جاگ اٹھّے وہ شدت نہیں ملی
کچھ دور ہم بھی ساتھ چلے تھے کہ یوں ہوا
کچھ مسئلوں پہ ان سے طبیعت نہیں ملی
تمام شہر سے لڑتا رہا مری خاطر
مگر اسی نے کبھی حال دل سنا نہ مرا
وہ اور لوگ تھے جو مانگ لے گئے سب کچھ
یہاں تو شرم تھی دست طلب اٹھا نہ مرا
اگر شاہد ماہلی کی نظموں کی بات کی جائے تو انہوں نے اپنی نظموں کے ذریعہ براہ راست ایک پیغام دینے کی کوشش کی ہے جو قاری کے دل میں سیدھے اتر جاتا ہے۔منظر پس منظر،لوگ دھیرے دھیرے اپنے دروازے کھول رہے ہیں،ایک لمحہ،عجیب لوگ،کرفیو اور واپسی کا نام بطور خاص لیا جا سکتا ہے۔ شاہد ماہلی قاری کے سامنے اپنی بات کس شدت کے ساتھ رکھتے ہیں اس کا اندازہ ان کی ایک مختصر سی نظم ’اندیشہ ‘سے بآسانی لگایاجاسکتا ہے۔
دور تک الفاظ کا پھیلا ہے زہرچہار سو مفہوم و معنی کے مکاں
شاہراہیں ہیں خیال و فکر کی
کوچۂ فہم و شعور
ہے یہ اندیشہ
کسی دن پھٹ نہ جائے
میرے سینے کا کوئی
آتش فشاں
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے بقول شمس الرحمن فاروقی’’تجربے کی انفرادیت اور احساس کی ندرت سے بھرا ہوا یہ مجموعہ آج کل کے مجموعوں کی بھیڑ میں نمایاں نظر آتا ہے‘‘۔
Thursday, February 10, 2011
Subscribe to:
Posts (Atom)



