Farman Chaudhary

Farman Chaudhary
Apna Kalam pesh karte hue Farman Chaudhary aur stage par tashreef farma hain(Left toRight)Janab Mueen Shadab,Janab Waqar Manvi,Janab Qazi Abrar Kiratpuri,Janab Padam Shri Bekal Utsahi,Janab Qais Rampuri,Janab Fasih Akmal Qadri aur Janab Farooq Argali

Monday, February 28, 2011

Tabsara on (Seerat Rasool e Akram,saws)

نام کتاب    :    سیرت رسول اکرمؐ
مصنف    :    محمدامام الدین کشی نگری
ضخامت    :    316صفحات
ملنے کا پتہ    :رضوی کتاب گھر،اردو مارکیٹ،مٹیا محل،دہلی6-

تبصرہ نگار    :      فرمان چودھری
یوں تو بے شمار لوگوں نے آپؐ کی سیرت پاک پر کتابیں لکھیں اور سب کا اپنا ایک منفرد انداز رہا ۔ہاں یہ بات بھی حقیقت ہے کہ تمام لکھنے والوں کو قارئین بھی ملے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ سیرت پر کتاب لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے، اس لیے جب بھی کوئی اس عنوان کے تحت لکھنے کی کوشش کرتا ہے تو یقینی طور پر وہ اپنے میدان کا ماہر ہوتا ہے۔یعنی لکھنے والا معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے، چونکہ کتاب میں پیغمبر اسلام کی حیات و خدمات کو قلم بند کیا جاتا ہے، لہذا سیرت نگار کو قارئین کا ایک حلقہ ملنا یقینی ہو جاتا ہے۔جناب محمد امام الدین کشی نگری بھی انہی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد کی جماعت کے ایک فرد ہیں۔ انھوں نے سیرت نگاری پر ’’سیرت رسول اکرمؐ‘‘ نامی کتاب تصنیف دے کرکے اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ یہ کتاب منفرد نوعیت کی حامل ہے۔موصوف کا انداز بیان تو دلکش ہے ہی ساتھ ہی عمیق تحقیق کی جھلکیاں ان کی تحقیقی کاوشوں کی غمازی کرتی ہیں۔ان کی یہ کاوش سیرت نگاری کے باب میں ایک قابل قدر اضافہ ہے اس میںجناب محمد امام الدین نے ظہور اسلام سے پہلے عرب کی صورت حال سے لیکر آپ ؐکے وصال تک کے حالات کامیابی کے ساتھ قلمبند کئے ہیں۔اس کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اسے ایک ہندوستانی نے مدینہ منورہ میں تصنیف کیا ہے۔مصنف نے اس کتاب کو تین مرکزی عنوانات ’ رسول اکرمؐ  کی مکی زندگی،مدنی زندگی اور شخصی زندگی کے تحت قلم بند کیا ہے۔موصوف نے نہ صرف ہر  واقعات کو الگ الگ عنوان کے تحت سجایا ہے بلکہ واقعہ کے مقام و وقت،ماہ و سال،سن ہجری اور عیسوی کا بیان بھی کردیا ہے۔ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف نے باضابطہ طور پر عا  لمیت یا مولویت کی ڈگری نہیں لی ہے(وہ ایم اے بی ایڈ ہیں اور پیشے کے لحاظ سے کمپیوٹر آپریٹر ہیں) بلکہ عشق رسول سے سرشار ہوکر یہ کارہائے نمایاں انجام دیا ہے۔کتاب کو مصنف نے بہت سلیقے کے ساتھ مرتب کیا ہے اور ان خوش نصیبوں میں اپنا نام درج کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جنہوں نے نبی کریم ؐ  کی تاریخی زندگی اور انقلابی خدمات پر قلم اٹھایا اور سیرت رسولؐ پر کوئی کتاب تالیف کی۔
کتاب کے ابتدا اور اخیر میں حمد و نعت کو بھی مصنف نے شامل کیاہے۔
مجموعی طور پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ مصنف نے عاشقان رسولؐ میں اپنا نام درج کراکر سیرت کے باب میں ایک بیش قیمت اضافہ کیا ہے۔ جسے یقیناً قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ آج سے سوا چودہ سو سال قبل سرزمین عرب میں آنکھیں کھولنے والے آخری نبی حضرت محمدؐ کی سیرت پاک کو صفحۂ قرطاس پر اتارنے کا کام آپؐ کے عہد مبارک میں ہی شروع ہو چکا تھا۔جو آہستہ آہستہ ایک مستقل فن کی شکل اختیار کرگیا۔صحابۂ کرام ؓجس طرح احادیث رسولؐ  کو جمع کر رہے تھے،اسی طرح حیات رسولؐ  کی ایک ایک ادا،ایک ایک قول و فعل اور طریقۂ زندگی کے ایک ایک عمل کو بھی انتہائی عقیدت کے ساتھ جمع کر رہے تھے۔سیرت نگاری کا یہ کام اس زمانے سے تا حال جاری و ساری ہے۔اس کام میں کسی بھی زمانے میں کوئی جمود نہیں آیا۔سیرت نگاری کا یہ قافلہ یوں ہی رواں دواں ہے اور اس وقت تک جاری و ساری رہے گا جب تک یہ دنیا قائم ہے ۔ یہ ایسا بحر بیکراں ہے جسے عبور کرنے میں بڑے بڑوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ایک مذہبی مفکر کے بقول ’’ آسمان کے چاندتاروں کوتوڑ کر اپنے دامن میں رکھنا جس طرح دشوار مسئلہ ہے اسی طرح سیرت رسول ؐکے ہر گوشے کو سمیٹ لینا بھی نہایت دشوار ہے‘‘۔لیکن اس کے باوجود آج ہر زبان میں سیرت کی چھوٹی بڑی کتابوں کا اتنا بڑا ذخیرہ دنیا میںموجود ہے کہ کسی دوسرے عظیم ترین بادشاہ یا حکمراں کی حیات و خدمات پر اس کا عشر عشیر بھی موجود نہیں۔

No comments:

Post a Comment