Farman Chaudhary

Farman Chaudhary
Apna Kalam pesh karte hue Farman Chaudhary aur stage par tashreef farma hain(Left toRight)Janab Mueen Shadab,Janab Waqar Manvi,Janab Qazi Abrar Kiratpuri,Janab Padam Shri Bekal Utsahi,Janab Qais Rampuri,Janab Fasih Akmal Qadri aur Janab Farooq Argali

Thursday, April 7, 2011

Tabsara on (Iqbal aur allahabad)

نام کتاب    :    اقبال اور الہ آباد
مصنف    :    علی احمد فاطمی
ضخامت    :    240صفحات
قیمت    :    250روپے
ملنے کا پتہ    :    بادارۂ نیا سفر،مرزا غالب روڈ، الہ آباد
تبصرہ نگار    :      فرمان چودھری

علامہ اقبال بیسویں صدی کے ایسے عظیم شاعرہیں جنہوں نے اپنی شاعری میںفکر اور فلسفہ پیش کیا۔ ان کے فن اور فلسفے پر اب تک ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اسی سلسلے کے تحت عصر حاضر کے ممتاز ترقی پسند نقاد پروفیسر علی احمد فاطمی کی تازہ تصنیف’’اقبال اور الہ آباد‘‘ سلسلۂ اقبالیات میںنیا اورخوشگواراضافہ ہے۔ موصوف نے اس تصنیف میںاپنے 11مضامین اور اقبالیات پر چند نئی کتابوں پرکئے گئے اپنے تبصروں کو یکجا کیا ہے۔’اقبال اور الہ آباد ‘ اس کتاب کا پہلا مضمون ہے اور اسی کی مناسبت سے انہوں نے اپنی کتاب کا عنوان بھی’ اقبال اور الہ آباد‘ رکھا ہے۔ اس موضوع پر قلم اٹھانے کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے صاحب مضمون نے لکھا ہے کہ جس طرح مرزا غالب اور میر انیس کے دورۂ الہ آباد کی تفصیلات نہیں ملتیں ، اسی طرح اقبال کے دورۂ الہ آباد کی تفصیلات پربھی دھندپڑنے کاخطرہ تھا۔ اپنے دوسرے مضمون’ علامہ اقبال کا خطبۂ الہ آباد:ایک تجزیہ ‘میں موصوف نے علامہ کے اس خطبہ کا جائزہ لیاہے جو علامہ نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے ایک جلسہ میں 1930میںدیا تھا۔ اسی خطبہ کو بنیاد بناکر بعض لوگ علامہ کو نظریۂ پاکستان کا بانی بھی کہتے ہیں، لیکن فاطمی صاحب نے مذکورہ خطبہ کا عالمانہ تجزیہ کرنے کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ علامہ تقسیم ہند کے حامی نہیں تھے اور انہوں نے کسی الگ ملک یا ریاست کا مطالبہ بھی نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے ہندوستان کے اندر مسلم ریاست کی خواہش کی تھی۔وہ لکھتے ہیں’’علامہ اقبال نے یہ خواہش کسی علیحدگی پسندی کی وجہ سے نہیں بلکہ مسلمانوں کے تشخص کے ساتھ ساتھ آئے دن ہونے والے ہندو مسلم کے درمیان کے واقعات کے تحفظ کے تحت بھی سوچی تھی۔وہ آئے دن کے ٹکراؤ اور بڑھتی ہوئی نفرت کا کوئی مستقل حل چاہتے تھے۔وہ مسلمان اور ہندوستان دونوں کے لیے فکر مند تھے۔ …..اقبال کو صرف جز کی نہیں کل کی فکر تھی۔صرف مسلمانوں کی نہیں سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں کی فکر تھی جسے کچھ لوگ ایک خاص رنگ، مذہب اور قانون میں ڈھال دینا چاہتے تھے‘‘۔
زیر نظر کتاب کے دوسرے مضامین’ اقبال کی عصری معنویت‘ ’ اقبال کی آفاقیت پر چند باتیں‘ اور’ اقبال کی مقامیت پر چند باتیں‘ایسے مضامین ہیں جن سے قاری کے ذہن کی گرہ کھلتی ہیں۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اقبال کی جتنی اہمیت بیسویں صدی میں تھی، ان کی عصری معنویت بھی اس سے کسی قدر کم نہیں ہے۔ ان کی شاعری نے سوئی ہوئی قوم کو جگانے کا کام کیا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان کو شاعر اسلام بھی کہا جاتا ہے ، لیکن مصنف کا اس بات پر زور دینا حق بجانب ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری کو محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ وہ ایک آفاقی شاعر ہیں اور ان کا ایک ایک مصرعہ درد انسانیت سے پر ہے۔مصنف کے دیگر مضامین ’آل احمد سرور کی اقبال شناسی‘’ محمد علی صدیقی: بحیثیت اقبال شناس‘’ اقبال کی نظم:والدہ مرحومہ کی یاد میں‘’ لینن خدا کے حضور میں:تجزیہ‘’ اقبال اور سردار کے فکری و تخلیقی رشتے‘اور’ علامہ اقبال پر فراق کا ایک مضمون‘ بھی قابل قدر ہیں۔ مصنف نے اپنے مضامین کا سلسلہ علی سردار جعفری کے ان جملوں پر ختم کیاہے’’اقبال مسلم بیداری کے شاعر تھے،  اس میں ایشیائی بیداری بھی شامل ہے۔ اقبال ہندوستان کی بیداری کے شاعر تھے، اس میں پوری تحریک آزادی شامل ہے۔ اقبال عالم انسانیت کی بیداری کے شاعر تھے، اس میں اشتراکیت کی فتح ، کارل مارکس اور لینن کے افکار کی عظمت شامل ہے۔ اقبال کی دوسری یاتیسری حیثیت ان کی پہلی حیثیت کی تردید نہیں کرتی بلکہ میرے نزدیک اس کی توثیق اور توسیع کرتی ہے کیوں کہ ہندوستان اور ایشیا کی مسلم بیداری ، عالم انسانیت کی بیداری کا ایک حصہ ہے۔ اقبال صحیح معنوں میں عالمی شاعر تھے‘‘۔
آخر میں مصنف نے’اقبال پرچند نئی کتابیں‘ کے عنوان سے اقبال:شاعر رنگیں نوا(پروفیسر عبدالحق)چوں مرگ آید(ڈاکٹر تقی عابدی)اقبال:عرفان کی آواز(پروفیسر بشیر احمد نحوی)اقبال اور سوشلزم(ڈاکٹر نذیر احمد شیخ)جہان اقبال(پروفیسر توقیر احمد خاں)اورمحافظ ملت:علامہ اقبال(ابراہیم اشک)جیسی کتابوںکا بخوبی جائزہ لیا ہے۔ چند یادگار تصاویر بھی کتاب کی زینت ہیں۔ کتاب کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ موصوف نے خود کے یا کتاب کے بارے میں کوئی مضمون یاجملہ شائع نہیں کیا ہے۔

No comments:

Post a Comment