مصنف : سہیل جامعی
قیمت : 100روپے
ملنے کا پتہ : اردو بازار ،دربھنگہ
تبصرہ نگار: فرمان چودھری
افسانہ اردو ادب کی ایک ایسی صنف ہے جو زندگی کے بے حد قریب مانی جاتی ہے۔شاید اسی لیے اردو میں افسانہ کی ابتدا سے لے کر آج تک اس صنف کی مقبولیت میں کبھی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔گرچہ افسانہ مغربی ادب سے اردو میں آیا،پھر بھی اردو میں اگر غزل کو مقبولیت حاصل ہے توافسانوں کو بھی ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہےاورافسانوں کی تخلیق کا سلسلہ منشی پریم چند سے لے کرتا حال جاری ہے۔اسی سلسلے کو آگے بڑھایا ہے سہیل جامعی کے افسانوی مجموعے ’دہلیز‘ نے۔
سہیل جامعی کے افسانوی مجموعے ’دہلیز‘ کے یوں تو سبھی افسانے بہت اچھے ہیں لیکن افسانہ ’دہلیز‘ اپنے آپ میں بے مثال ہے۔اس افسانے میں سہیل جامعی نے انسانی نفسانی ضروریات اور اخلاقی قدروں کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔سہیل جامعی اپنے اس افسانہ کے ذریعہ سماج کو ایک مثبت پیغام دینے میں کامیاب رہے ہیں۔مثال کے طور پر افسانہ کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔’’پھر اوشا کو لگا کہ کسی دن اس کی طرف دیکھ کر بھی لوگ اسی طرح کانا پھوسی کریں گے۔ارے کون نہیں جانتا اسے۔۔۔۔۔۔۔؟تو کیا فرق رہ جائے گا اس لڑکی میں اور مجھ میں۔اتنا سوچتے ہی اوشا اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور کنڈکٹر سے بولی۔پلیز ! مجھے یہیں اتار دیں۔۔۔۔‘‘
سہیل جامعی کے اس مجموعے میں کچھ مختصر افسانے بھی ہیں۔جیسے اتحاد،سلسلہ، سچائی، سونے کی چڑیااور وجود وغیرہ وغیرہ۔سچائی ا ن کا مختصر ترین افسانہ ہے،جسے بہت ہی بہتر طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔انتہائی مختصر ہونے کے باوجود یہ افسانہ قاری کو متاثر کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔اسی طرح ان کا ایک اور افسانہ ’سونے کی چڑیا‘ بھی قاری کے دل پر زبردست چوٹ کرتا ہے۔’فرق‘ افسانہ ہمیں شہر کی بھاگ دوڑ بھری زندگی سے روبرو کراتاہے کہ کس طرح آج ہم اپنے پڑوسی تک سے نا آشنا ہیں۔’دہلیز‘ کے افسانوں کا مطالعہ کرنے کے بعد بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سہیل جامعی کو انسانی نفسیات پر گہری پکڑہے۔جس کا فائدہ وہ اپنے افسانوںکو حقیقت سے قریب تر کرنے میں اٹھاتے ہیں۔
امید کی جانی چاہئے کہ سہیل جامعی کا تخلیقی سفر یوں ہی جاری رہے گا۔اور وہ اپنے مصروف ترین وقت میں سے کچھ لمحے چراکر اردو ادب کی خدمت کرتے رہیں گے۔ 24 افسانوں پر مشتمل سہیل جامعی کے افسانو ں کا مجموعہ’ دہلیز‘ گرچہ ایک مختصر مجموعہ ہے ،لیکن اختصار کے باوجود اپنے قاری کو زندگی کے تمام مراحل سے روشناس کرانے میں کامیاب ہے۔بہار کے ایک تاریخی شہردربھنگہ کے خوشحال اور قدامت پسند گھرانے میں آنکھیں کھولنے والے سہیل جامعی کی تعلیم کا سلسلہ جب دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میںشروع ہوا تو پھر انہوں نے سارے تعلیمی مراحل یہیں سے طے کیے۔ دو شہروں کی تہذیبوں کا حسین امتزاج نہ صرف ان کی شخصیت میں جلوہ گر ہے بلکہ ان کے افسانے بھی اس سے اچھوتے نہیں ہیں۔سہیل جامعی گرچہ پیشے سے تاجر ہیں لیکن لکھنے پڑھنے کا شوق ،ان سے اردو ادب کی خدمت کے لیے کچھ وقت نکال ہی لیتا ہے۔اس کا اعتراف وہ خود کرتے ہیں اور کہتے ہیں ’’زندگی کی تمام مصروفیات کے با وجود اپنی تجارتی زندگی کے درمیان سے کچھ لمحے چرااپنی خواہشوں کی تکمیل کر کچھ پڑھنے کے ساتھ لکھنے کی بھی کوشش کرتا ہوں۔‘‘ زیر نظر کتاب ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔اس سے قبل ان کا ایک اور افسانوی مجموعہ ’’لکیر‘‘شائع ہو کر داد و تحسین حاصل کر چکا ہے۔
No comments:
Post a Comment