Farman Chaudhary

Farman Chaudhary
Apna Kalam pesh karte hue Farman Chaudhary aur stage par tashreef farma hain(Left toRight)Janab Mueen Shadab,Janab Waqar Manvi,Janab Qazi Abrar Kiratpuri,Janab Padam Shri Bekal Utsahi,Janab Qais Rampuri,Janab Fasih Akmal Qadri aur Janab Farooq Argali

Saturday, April 9, 2011

Tabsara on Nau Bahar

نام کتاب    :    نو بہار(شعری مجموعہ)
مصنف    :    اطہرؔ سہارنپوری
ضخامت    :    155صفحات
قیمت    :    150روپے
ملنے کا پتہ    :    محمد انجم،گلی نمبر45جعفرآباد، دہلی
تبصرہ نگار    :      فرمان چودھری
اردو کی جملہ اصناف ادب میں شاعری ایک ایسی صنف ہے جس میں مسلسل فکری کاوشیں جاری ہیں۔ خاص طور پر غزل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید جوان ہوتی جارہی ہے۔اردو شاعری ادب کی ایسی صنف ہے جو عوام و خواص میں یکساں مقبول ہے۔اردو شاعری کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اردو ادب کی دیگر اصناف میں جہاں تخلیقی کام تعطل کا شکار ہے،وہیں شاعری میں روز نئے نئے مجموعے شائع ہو کر داد و تحسین حاصل کررہے ہیں۔حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ غزل کے علاوہ شاعری کی دیگر اصناف مثلاًمرثیہ،مثنوی اور قصیدہ میںنہ کے برابر طبع آزمائی ہور ہی ہے۔
بہر حال اطہر سہارنپوری کا پہلا شعری مجموعہ ’’نو بہار‘‘2009میں منظر عام پر آیا۔مجموعہ میں دونظموں اور چند قطعات کے علاوہ سبھی غزلیں ہیں۔اطہر سہارنپوری کی یہ غزلیں قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔اس کی وجہ شاید ان کی سادگی ہے۔ موصوف اپنے اشعار میں اپنی بات کو بات بڑی سادگی سے کہہ جاتے ہیں۔چند اشعار ملاحظہ کیجئے۔
تصورات کی وادی میں گھومتا ہوں سدا
مری نظر میں نئے دور کا اجالا ہے
بن گیا زر سے تو میدان ادب کا ہیرو
میرے اشعار سے بھاری تری دولت ہی رہی
دیکھ کر جس کو نکلتی تھیں دعائیں دل سے
کس کو معلوم تھا اک دن وہی قاتل ہوگا
اطہر سہارنپوری محبت کے شاعر ہیں۔اپنے اشعار میں وہ جا بجا انسان دوستی، امن عالم اور مساوات کی تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے اشعار میں فکر کی گہرائی تمام تر رعنائیوں سے ساتھ موجود ہے۔ مندرجہ دو اشعار ان کے اسی شعری رویہ کی بخوبی ترجمانی کرتے ہیں۔
مجرم ہوں اگر جرم کا احساس دلا دو
منہ پھیر کے تم یوں نہ تغافل کی سزا دو
واقف ہے اگر عشق کے انجام سے کوئی
اس کو تو دماغی یہ خلل ہو نہیں سکتا
اطہر سہارنپوری کی شاعری پر اپنے مختصر مضمون میں ایم آر قاسمی فرماتے ہیں کہ اطہر سہارنپوری کا ملازمت پیشہ گھریلو ماحول سے نکل کر دہلی جیسے شہر کو اپنے مستقبل کا مسکن بنانا اور زندگی کے نئے رویوں کو شعری تخیلات و جذ بات میں ڈھالناانتہائی چونکا دینے والا عمل ہے۔اطہر سہارنپوری کا یہ شعری عمل در اصل ایک اندرونی احتجاج ہے ان فرسودہ اور نام نہاد اکائیوں کے خلاف جن پر وقت، سماج، دوستی، تعلق،خلوص اور پیارکی دریدہ بدن تختیاں لگی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری آتش نوائی سے احتراز کے باوجود محبتوں کی روایتی تہذیب سے عبارت ہے۔
اطہر سہارنپوری زندگی سے جو کچھ حاصل کرتے ہیں،اس مشاہدہ اور تجربہ کو اپنے شعروں کے ذریعہ بڑی خوبصورتی سے واپس کردیتے ہیں۔مثال کے طور پر چند اشعارحاضر ہیں ۔
اہل جہاں نے مجھ کو تماشہ سمجھ لیا
لے آئی یہ کہاں سے کہاں بے خودی مجھے
افضل نہیں ہے کوئی بھی ہم سے جہان میں
کچھ لوگ عمر بھر ہی رہے اس گمان میں
بویا تھا جو تم نے وہی تم کاٹ رہے ہو
کڑوے پہ تو میٹھا کوئی پھل ہو نہیں سکتا
گھائل اسی کو کر دیا جس پر نظر پڑی
ابروئے چشم ہی تری تیرو کمان ہے
اطہر سہارنپوری کا شعری مجموعہ ’نو بہار‘ اپنے سر ورق کے لحاظ سے بھی بیحد خوبصورت ہے۔امید ہے کہ ادبی حلقوں میںمجموعہ کو پذیرائی ملے گی۔

No comments:

Post a Comment