Farman Chaudhary

Farman Chaudhary
Apna Kalam pesh karte hue Farman Chaudhary aur stage par tashreef farma hain(Left toRight)Janab Mueen Shadab,Janab Waqar Manvi,Janab Qazi Abrar Kiratpuri,Janab Padam Shri Bekal Utsahi,Janab Qais Rampuri,Janab Fasih Akmal Qadri aur Janab Farooq Argali

Saturday, March 12, 2011

Tabsara on (chaand mera hei)

نام کتاب    :چاند میرا ہے(افسانوی مجموعہ)
مصنف    :    غزالہ قمر اعجاز
ضخامت    :    182صفحات
قیمت    :    200روپے
ملنے کا پتہ    :    بی132-ایم آئی جی فلیٹس،راجوری گارڈن،نئی دہلی
تبصرہ نگار    :   فرمان چودھری

زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ادبی سفر میں بھی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں اور اپنی موجودگی کا احساس کرا رہی ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی نمائندگی جتنی ہونی چاہئے اتنی نہیں ہے۔ زیر نظرکتاب ایک خاتون افسانہ نگار غزالہ قمر اعجاز کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ’’چاند میرا ہے‘‘نامی اس مجموعے میں غزالہ قمر اعجاز نے اپنے 19افسانوں کا انتخاب کیا ہے۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میںجب کہ انسانی زندگی نفسیاتی پیچیدگی اور تہذیبی بحران کا شکار ہے اور تمام انسانی رشتے ناتے بوجھ بن گئے ہیں، قمر غزالہ اعجاز نے اپنے افسانوں میں اس درد کو نہایت چابکدستی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ان کے مجموعے کا پہلا افسانہ ’’مقبرہ‘‘اس کی بہترین مثال ہے۔ اس افسانے میں قمر غزالہ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح گھر کے بزرگ اپنے ہی گھر میں خود کو تنہا اور کمزور محسوس کرتے ہیں۔مثال کے طور پر افسانہ کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجئے’’اس وقت بچوں کو اسکول بھیجنے کے بعد سمعیہ دوبارہ سو رہی ہوں گی اور ان کے فرماں بردار شوہر یعنی ہمارے برخوردار اپنی چائے بنانے کے بعد اب اخبار کے مطالعے میں مصروف ہوں گے…..اور میرے وقت سے پہلے پہنچنے پر وہ اخبار مجھے دے کر لان میں لگے پودوں کو پانی دینا شروع کر دیں گے۔گھڑی اس وقت جیسے رک سی جاتی ہے۔سمعیہ ساڑھے آٹھ بجے اٹھیں گی۔ناشتہ میز پر رکھ کر مجھے اس انداز سے بلائیں گی جیسے کہہ رہی ہوں ’نٹھلو کھانے کے سوا تمہارا کام ہی کیاہے‘‘۔
قمر غزالہ نے اپنے افسانے بہت ہی سیدھے سادے انداز میں پیش کئے ہیں لیکن انہوں نے افسانے کے فن کو کہیں نظر انداز نہیں کیا ہے۔اس لیے ان کا قاری کہیں اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے۔اس مجموعے کے موضوعات گرچہ روایتی ہیں،اور ہوں بھی کیوں نہیں۔ ہمارے بیشتر ادیب آج بھی روایت کے خول میں ہی لپٹے ہوئے ہیں۔اس خول سے باہر وہ تب آتے ہیں جب یوروپ کا کوئی ادیب ان سے باہر نکلنے کے لیے کہتا ہے،یا یوں کہیں کہ جگاتا ہے۔بہر حال موصوفہ نے اچھی کوشش کی ہے اور روایتی موضوعات کو انفرادیت کا جامہ پہنایا ہے۔
ان کے بقول افسانہ ایک مکمل تجربہ ہے، جو کبھی ایک لمحے پر تو کبھی پوری زندگی پر محیط ہوتا ہے۔اپنے اسی تجربے کو انہوں نے اپنے افسانہ ’’زلزلہ آگیا ہے‘‘ میں بھرپور طریقے سے پیش کیا ہے اور سماج کے فرقہ پرست چہرے پر زبردست چوٹ کی ہے۔’’بند کمرہ‘‘ میں غزالہ قمر نے آفس کلچر اور بے راہ روی کا نقشہ کھینچا ہے۔’’کھوکھلے رشتے‘‘ میں انہوں نے بڑے شہر میں رہ رہے اس جوڑے کی زندگی سے قارئین کو روبرو کرایا ہے جو اپنی مصروفیت میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ اسے ایک دوسرے کا خیال ہی نہیں رہتا ، لیکن آخر میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے اور وہ اپنی زندگی کو تباہ ہونے سے بچا لیتے ہیں۔ یہ افسانہ ہمیں سوچنے پر مجبور کردیتا ہے کہ کیا انسان صرف کام کرنے کی ہی مشین بن گیا ہے ؟کیا گلوبلائزیشن نے اس کے اندر کے جذبات و احساسات کو بالکل ہی ختم کردیا ہے؟
غزالہ قمر کے افسانے بھی اخلاقیات کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔ اپنیدیگر افسانوں ایک اور سریتا، درار، اپنا انصاف، جیک پاٹ، گھروندا، آئینہ چپ ہے، اسپرنگ، چاند میرا ہے، یکا تنہا، آخری تلاش، دھند، تم کون، ہار، کسک اورسانپ میں بھی انہوں نے اپنے فن کا بخوبی استعمال کیا ہے۔اپنے اس مجموعے میں انہوں نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا ہے،جن سے انسانی زندگی شب و روزدوچار ہوتی ہے۔غزالہ قمر نے اپنے افسانوں میں جس طرح انگریزی الفاظ کا جگہ جگہ استعمال کیا ہے وہ قابل تعریف ہے ۔ انگریزی الفاظ اردو کے ساتھ پوری طرح گھل مل گئے ہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ بہترین اور عمدہ سر ورق کے ساتھ غزالہ قمر اعجاز کا یہ افسانویمجموعہ اردو داں حلقے کو ضرور پسند آئے گا۔

No comments:

Post a Comment